سورہ Al-An'am — آیت 115
مویشی · 6:115 · 115/165
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَـٰتِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
Watammat kalimatu rabbika sidqanwaAAadlan la mubaddila likalimatihi wahuwa assameeAAualAAaleem
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور تمہارے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سنتا جانتا ہے
محمد جوناگڑھی
آپ کے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، اس کے کلام کا کوئی بدلنے واﻻ نہیں اور وه خوب سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
تمہارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور آپ ﷺ کے رب کی بات تو سچائی اور عدل پر مبنی ہونے کے اعتبار سے درجہ کمال تک پہنچ چکی ہے اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
آپ کے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے[1] ، اس کے کلام کا کوئی بدلنے واﻻ نہیں[2] اور وه خوب سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے۔[3]
حواشی
[1] اخبار و واقعات کے لحاظ سے سچا ہے اور احکام ومسائل کے اعتبار سے عادل ہے یعنی اس کا ہر امر اور نہی عدل وانصاف پر مبنی ہے۔ کیونکہ اس نے انہی باتوں کا حکم دیا ہے جن میں انسانوں کا فائدہ ہے اور انہی چیزوں سے روکا ہے جن میں نقصان اور فساد ہے۔ گو انسان اپنی نادانی یا اغوائے شیطانی کی وجہ سے اس حقیقت کو نہ سمجھ سکیں۔ [2] یعنی کوئی ایسا نہیں جو رب کے کسی حکم میں تبدیلی کردے، کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی طاقتور نہیں۔ [3] یعنی بندوں کے اقوال سننے والا اور ان کی ایک ایک حرکت و ادا کو جاننے والا ہے اور وہ اس کے مطابق ہر ایک کوجزا دے گا۔