سورہ Al-An'am — آیت 101

مویشی · 6:101 · 101/165

بَدِيعُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُۥ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُۥ صَـٰحِبَةٌ ۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

BadeeAAu assamawatiwal-ardi anna yakoonu lahu waladun walamtakun lahu sahibatun wakhalaqa kulla shay-in wahuwabikulli shay-in AAaleem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (ہے)۔ اس کے اولاد کہاں سے ہو جب کہ اس کی بیوی ہی نہیں۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے

محمد جوناگڑھی

وه آسمانوں اور زمین کا موجد ہے، اللہ تعالیٰ کے اوﻻد کہاں ہوسکتی ہے حاﻻنکہ اس کے کوئی بیوی تو ہے نہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا اور وه ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اس کا کوئی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ کوئی اس کی شریک زندگی ہی نہیں ہے اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

وہ عدم سے وجود میں لانے والا ہے آسمانوں اور زمین کو اس کے اولاد کیسے ہوسکتی ہے جبکہ اس کی کوئی بیوی نہیں اور اس نے تو ہر شے کو پیدا کیا ہے اور وہ ہرچیز کا علم رکھتا ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

وه آسمانوں اور زمین کا موجد ہے، اللہ تعالیٰ کے اوﻻد کہاں ہوسکتی ہے حاﻻنکہ اس کے کوئی بیوی تو ہے نہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا[1] اور وه ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

حواشی

[1] یعنی جس طرح اللہ تعالی ان تمام چیزوں کے پیدا کرنےمیں واحد ہے، کوئی اس کا شریک نہیں۔ اسی طرح وہ اس لائق ہے کہ اس اکیلے کی عبادت کی جائے، عبادت میں کسی اور کو شریک نہ بنایا جائے۔ لیکن لوگوں نے اس ذات واحد کو چھوڑ کر جنوں کو اس کا شریک بنا رکھا ہے، حالانکہ وہ خود اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ مشرکین عبادت تو بتوں کی یا قبروں میں مدفون اشخاﺹ کی کرتے ہیں لیکن یہاں کہا گیا ہے کہ انہوں نے جنات کو اللہ کا شریک بنایا ہوا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ جنات سے مراد شیاطین ہیں اور شیاطین کے کہنے سے ہی شرک کیا جاتا ہے اس لئے گویا شیطان ہی کی عبادت کی جاتی ہے۔ اس مضمون کو قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے مثلا سورۂ نساء: 117، سورۂ مریم: 44، سورۂ یٰسین: 60 ، سورۂ سبا: 41۔