سورہ Al-Ahzab — آیت 8

متحد گروہ · 33:8 · 8/73

لِّيَسْـَٔلَ ٱلصَّـٰدِقِينَ عَن صِدْقِهِمْ ۚ وَأَعَدَّ لِلْكَـٰفِرِينَ عَذَابًا أَلِيمًا

Liyas-ala assadiqeena AAan sidqihimwaaAAadda lilkafireena AAathaban aleema

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

تاکہ سچ کہنے والوں سے اُن کی سچائی کے بارے میں دریافت کرے اور اس نے کافروں کے لئے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

محمد جوناگڑھی

تاکہ اللہ تعالیٰ سچوں سے ان کی سچائی کے بارے میں دریافت فرمائے، اور کافروں کے لئے ہم نے المناک عذاب تیار کر رکھے ہیں.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

تاکہ سچّے لوگوں سے (ان کا ربّ)ان کی سچّائی کے بارے میں سوال کرے ، اور کافروں کےلیے تو اُس نے درد ناک عذاب مہیّا کر ہی رکھا ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تا کہ اللہ پوچھ لے سچے لوگوں سے ان کے سچ کے بارے میں۔ اور اس نے تیار کر رکھا ہے کافروں کے لیے ایک دردناک عذاب۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

تاکہ اللہ تعالیٰ سچوں سے ان کی سچائی کے بارے میں دریافت فرمائے[1] ، اور کافروں کے لئے ہم نے المناک عذاب تیار کر رکھے ہیں.

حواشی

[1] یہ لام كَيْ ہے۔ یعنی یہ عہد اس لئے لیا تاکہ اللہ سچے نبیوں سے پوچھے کہ انہوں نے اللہ کا پیغام اپنی قوموں تک ٹھیک طریقے سے پہنچا دیا تھا؟ یا دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ انبیا سے پوچھے کہ تمہاری قوموں نے تمہاری دعوت کا جواب کس طرح دیا؟ مثبت انداز میں یا منفی طریقے سے؟ جس طرح کہ دوسرے مقام پر ہے کہ ہم ان سے بھی پوچھیں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔ (الاعراف۔ 6) اس میں داعیان حق کے لئے بھی تنبیہ ہے کہ وہ دعوت حق کا فریضہ پوری تن دہی اور اخلاص سے ادا کریں تاکہ بارگاہ الٰہی میں سرخرو ہو سکیں، اور ان لوگوں کے لئے بھی وعید ہے جن کو حق کی دعوت پہنچائی جائے کہ اگر وہ اسے قبول نہیں کریں گے تو عنداللہ مجرم اور مستوجب سزا ہوں گے۔