سورہ Yusuf — آیت 83

یوسف · 12:83 · 83/111

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ

Qala bal sawwalat lakum anfusukumamran fasabrun jameelun AAasa Allahu anya'tiyanee bihim jameeAAan innahu huwa alAAaleemu alhakeem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے

محمد جوناگڑھی

(یعقوب علیہ السلام نے) کہا یہ تو نہیں، بلکہ تم نے اپنی طرف سے بات بنالی، پس اب صبر ہی بہتر ہے۔ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو میرے پاس ہی پہنچا دے۔ وه ہی علم وحکمت واﻻ ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

باپ نے یہ داستان سُن کر کہا”دراصل تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک اور بڑی بات کو سہل بنا دیا۔ اچھا، اس پر بھی صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا۔ کیا بعید ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا ملائے، وہ سب کچھ جانتا ہے اور اُس کے سب کا م حکمت پر مبنی ہیں۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

آپ نے فرمایا : (نہیں !) بلکہ تمہارے لیے تمہارے نفسوں نے ایک کام آسان کردیا ہے پس صبر ہی بہتر ہے ہوسکتا ہے اللہ ان سب کو لے آئے میرے پاس۔ یقیناً وہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے