سورہ Yusuf — آیت 80

یوسف · 12:80 · 80/111

فَلَمَّا ٱسْتَيْـَٔسُوا۟ مِنْهُ خَلَصُوا۟ نَجِيًّا ۖ قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًا مِّنَ ٱللَّهِ وَمِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِى يُوسُفَ ۖ فَلَنْ أَبْرَحَ ٱلْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِىٓ أَبِىٓ أَوْ يَحْكُمَ ٱللَّهُ لِى ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَـٰكِمِينَ

Falamma istay-asoo minhu khalasoonajiyyan qala kabeeruhum alam taAAlamoo anna abakumqad akhatha AAalaykum mawthiqan mina Allahi waminqablu ma farrattum fee yoosufa falan abrahaal-arda hatta ya'thana lee abee aw yahkumaAllahu lee wahuwa khayru alhakimeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

محمد جوناگڑھی

جب یہ اس سے مایوس ہو گئے تو تنہائی میں بیٹھ کر مشوره کرنے لگے۔ ان میں جو سب سے بڑا تھا اس نے کہا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کی قسم لے کر پختہ قول قرار لیا ہے اور اس سے پہلے یوسف کے بارے میں تم کوتاہی کر چکے ہو۔ پس میں تو اس سرزمین سے نہ ٹلوں گا جب تک کہ والد صاحب خود مجھے اجازت نہ دیں یا اللہ تعالیٰ میرے معاملے کا فیصلہ کر دے، وہی بہترین فیصلہ کرنے واﻻ ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

جب وہ یوسفؑ سے مایوس ہو گئے تو ایک گوشے میں جا کر آپس میں مشورہ کرنے لگے ان میں جو سب سے بڑا تھا وہ بولا "تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے خدا کے نام پر کیا عہد و پیمان لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسفؑ کے معاملہ میں جو زیادتی تم کر چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے اب میں تو یہاں سے ہرگز نہ جاؤں گا جب تک کہ میرے والد مجھے اجازت نہ دیں، یا پھر اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ فرما دے کہ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

پھر جب وہ یو سف سے مایوس ہوگئے تو علیحدگی میں جا کر مشورہ کرنے لگے ان کے بڑے نے کہا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کے نام پر پختہ عہد لیا ہوا ہے اور (کیا تم نہیں جانتے) جو زیادتی اس سے پہلے تم یوسف کے معاملے میں کرچکے ہو اب میں تو اس سر زمین سے نہیں ہلوں گا یہاں تک کہ میرے والد خود مجھے اجازت دے دیں یا پھر اللہ ہی میرے بارے میں کوئی فیصلہ کردے اور یقیناً وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے