سورہ Yusuf — آیت 8
یوسف · 12:8 · 8/111
إِذْ قَالُوا۟ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ
Ith qaloo layoosufu waakhoohu ahabbuila abeena minna wanahnu AAusbatuninna abana lafee dalalin mubeen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں
محمد جوناگڑھی
جب کہ انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی بہ نسبت ہمارے، باپ کو بہت زیاده پیارے ہیں حاﻻنکہ ہم (طاقتور) جماعت ہیں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ابا صریح غلطی میں ہیں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
یہ قصہ یوں شروع ہوتا ہےکہ اس کے بھائیوں نے آپس میں کہا”یہ یوسف ؑ اور اس کا بھائی، دونوں ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں، سچی بات یہ ہے کہ ہمارے ابا جان بالکل ہی بہک گئے ہیں۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
جب انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے والد کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں جبکہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں یقیناً ہمارے والد صریح غلطی پر ہیں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
جب کہ انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی[1] بہ نسبت ہمارے، باپ کو بہت زیاده پیارے ہیں حاﻻنکہ ہم (طاقتور) جماعت [2]ہیں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ابا صریح غلطی میں ہیں.[3]
حواشی
[1] ”اس کا بھائی“ سے مراد بنیامین ہے۔ [2] یعنی ہم دس بھائی طاقتور جماعت اور اکثریت میں ہیں، جب کہ یوسف (عليه السلام) اور بنیامین (جن کی ماں الگ تھی) صرف دو ہیں، اس کے باوجود باپ کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور ہیں۔ [3] یہاں ضلال سے مراد غلطی ہے جو ان کے زعم کے مطابق باپ سے یوسف (عليه السلام) اور بنیامین سے زیادہ محبت کی صورت میں صادر ہوئی۔