سورہ Yusuf — آیت 51

یوسف · 12:51 · 51/111

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَٰوَدتُّنَّ يُوسُفَ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ قُلْنَ حَـٰشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِن سُوٓءٍ ۚ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْـَٔـٰنَ حَصْحَصَ ٱلْحَقُّ أَنَا۠ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفْسِهِۦ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ

Qala ma khatbukunna ithrawadtunna yoosufa AAan nafsihi qulna hasha lillahima AAalimna AAalayhi min soo-in qalatiimraatu alAAazeezi al-ana hashasa alhaqquana rawadtuhu AAan nafsihi wa-innahu lamina assadiqeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

بادشاہ نے عورتوں سے پوچھا کہ بھلا اس وقت کیا ہوا تھا جب تم نے یوسف کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ سب بول اٹھیں کہ حاش َللهِ ہم نے اس میں کوئی برائی معلوم نہیں کی۔ عزیز کی عورت نے کہا اب سچی بات تو ظاہر ہو ہی گئی ہے۔ (اصل یہ ہے کہ) میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا اور بےشک وہ سچا ہے

محمد جوناگڑھی

بادشاه نے پوچھا اے عورتو! اس وقت کا صحیح واقعہ کیا ہے جب تم داؤ فریب کر کے یوسف کو اس کی دلی منشا سے بہکانا چاہتی تھیں، انہوں نے صاف جواب دیا کہ معاذ اللہ ہم نے یوسف میں کوئی برائی نہیں پائی، پھر تو عزیز کی بیوی بھی بول اٹھی کہ اب تو سچی بات نتھر آئی۔ میں نے ہی اسے ورغلایا تھا، اس کے جی سے، اور یقیناً وه سچوں میں سے ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اس پر بادشاہ نے ان عورتوں سے دریافت کیا”تمہارا کیا تجربہ ہے اُس وقت کا جب تم نے یُوسُف ؑ کو رِجہانے کی کوشش کی تھی؟“ سب نے یک زبان ہو کر کہا”حاشا لِلّٰہ، ہم نے تو اُس میں بدی کا شائبہ تک نہ پایا۔“ عزیز کی بیوی بول اُٹھی”اب حق کُھل چکا ہے، وہ میں ہی تھی جس نے اُس کو پُھسلانے کی کوشش کی تھی، بے شک وہ بالکل سچا ہے۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اس نے پوچھا کہ کیا معاملہ تھا تمہارا جب تم سب نے پھسلانا چاہا تھا یوسف کو انہوں نے کہا کہ اللہ گواہ ہے ہمارے علم میں اس کے بارے میں کوئی بھی برائی نہیں ہے (اس پر) عزیز کی بیوی بھی بول اٹھی کہ اب حقیقت تو واضح ہو ہی گئی ہے میں نے ہی اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی اور وہ بالکل سچا ہے