سورہ Yunus — آیت 78

یونس · 10:78 · 78/109

قَالُوٓا۟ أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا ٱلْكِبْرِيَآءُ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ

Qaloo aji'tana litalfitanaAAamma wajadna AAalayhi abaanawatakoona lakuma alkibriyao fee al-ardi wamanahnu lakuma bimu'mineen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیردو۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں کی ہی سرداری ہوجائے اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

محمد جوناگڑھی

وه لوگ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم کو اس طریقہ سے ہٹادو جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اور تم دونوں کو دنیا میں بڑائی مل جائے اور ہم تم دونوں کو کبھی نہ مانیں گے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اُنہوں نے جواب دیا”کیا تُو اِس لیے آیا ہے کہ ہمیں اُس طریقے سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور زمین میں بڑائی تُم دونوں کی قائم ہو جائے؟ تمہاری بات تو ہم ماننے والے نہیں ہیں۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

انہوں نے کہا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں پھیر دو ان طریقوں سے جن پر پایا ہم نے اپنے آباء و اَجداد کو اور تم دونوں کی بڑائی قائم ہوجائے زمین میں ؟ اور ہم ہرگز تم دونوں کی بات ماننے والے نہیں ہیں۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

وه لوگ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم کو اس طریقہ سے ہٹادو جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اور تم دونوں کو دنیا میں بڑائی مل جائے [1] اور ہم تم دونوں کو کبھی نہ مانیں گے.

حواشی

[1] یہ منکرین کی دیگر حجتیں ہیں جو دلائل سے عاجز آکر، پیش کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ تم ہمارے آباء واجداد کے راستے سے ہٹانا چاہتے ہو، دوسرے یہ کہ ہمیں جاہ و ریاست حاصل ہے، اسے ہم سے چھین کر خود اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہو اسلیے ہم تو کبھی بھی تم پر ایمان نہ لائیں گے۔ یعنی تنقید آباء پر اصرار اور دنیاوی وجہ کی خواہش نے انہیں ایمان لانے سے روکے رکھا۔ اس کے بعد آگے وہی قصہ ہے کہ فرعون نے ماہر جادوگروں کو بلایا اور حضرت موسیٰ (عليه السلام) اور جادوں گروں کا مقابلہ ہوا، جیسا کہ سورہ اعراف میں گزرا اور سورہ طہ میں بھی اس کی کچھ تفصیل آئے گی۔