سورہ Yunus — آیت 75
یونس · 10:75 · 75/109
ثُمَّ بَعَثْنَا مِنۢ بَعْدِهِم مُّوسَىٰ وَهَـٰرُونَ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ بِـَٔايَـٰتِنَا فَٱسْتَكْبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ قَوْمًا مُّجْرِمِينَ
Thumma baAAathna min baAAdihim moosawaharoona ila firAAawna wamala-ihi bi-ayatinafastakbaroo wakanoo qawman mujrimeen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ گنہگار لوگ تھے
محمد جوناگڑھی
پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو، فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا۔ سو انہوں نے تکبر کیا اور وه لوگ مجرم قوم تھے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا، مگر انہوں نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ مجرم لوگ تھے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
پھر بھیجا ہم نے ان کے بعد موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے سرداروں کی جانب اپنی نشانیوں کے ساتھ تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ تھے مجرم لوگ۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
پھر ان پیغمبروں کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو[1] ، فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا[2]۔ سو انہوں نے تکبر کیا اور وه لوگ مجرم قوم تھے.[3]
حواشی
[1] رسولوں کے عمومی ذکر کے بعد، حضرت موسیٰ و ہارون علیہا اسلام کا ذکر کیا جا رہا ہے، درآنحالیکہ رسول کے تحت میں وہ بھی آجاتے ہیں۔ لیکن چونکہ ان کا شمار جلیل القدر رسولوں میں ہوتا ہے اس لئے خصوصی طور پر ان کا الگ ذکر فرما دیا۔ [2] حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے معجزات، بالخصوص نو آیات بینات، جن کا ذکر اللہ نے سورت نبی اسرائیل آیت 101میں کیا ہے۔ مشہور ہیں۔ [3] لیکن چونکہ وہ بڑے بڑے جرائم اور گناہوں کے عادی تھے۔ اس لئے انہوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے رسول کے ساتھ بھی استکبار کا معاملہ کیا۔ کیونکہ ایک گناہ، دوسرے گناہ کا ذریعہ بنتا اور گناہوں پر اصرار بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جرأت پیدا کرتا ہے۔