سورہ Ya-Sin — آیت 7
یٰسٓ · 36:7 · 7/83
لَقَدْ حَقَّ ٱلْقَوْلُ عَلَىٰٓ أَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
Laqad haqqa alqawlu AAalaaktharihim fahum la yu'minoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
ان میں سے اکثر پر (خدا کی) بات پوری ہوچکی ہے سو وہ ایمان نہیں لائیں گے
محمد جوناگڑھی
ان میں سے اکثر لوگوں پر بات ﺛابت ہوچکی ہے سو یہ لوگ ایمان نہ ﻻئیں گے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اِن میں سے اکثر لوگ فیصلہٴ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں، اسی لیے وہ ایمان نہیں لاتے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
ان کی اکثریت پر ہمارا قول (قانونِ عذاب) سچ ثابت ہوچکا ہے تو اب وہ ایمان نہیں لائیں گے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
ان میں سے اکثر لوگوں پر بات ﺛابت ہوچکی ہے سو یہ لوگ ایمان نہ ﻻئیں گے.[1]
حواشی
[1] جیسے ابوجہل، عتبہ، شیبہ وغیرہ۔ بات ثابت ہونے کا مطلب، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ ”میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا“۔ (الم السجدۃ: 13) شیطان سے بھی خطاب کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا تھا ”میں جہنم کو تجھ سے اور تیرے پیروکاروں سے بھر دوں گا“۔ (ص: 84) یعنی ان لوگوں نے شیطان کے پیچھے لگ کر اپنےآپ کو جہنم کا مستحق قرار دے لیا، کیونکہ اللہ نے تو ان کو اختیار وحریت ارادہ سے نوازا تھا، لیکن انہوں نے اس کا استعمال غلط کیا اور یوں جہنم کا ایندھن بن گئے۔ یہ نہیں کہ اللہ نے جبراً ان کو ایمان سے محروم رکھا، کیونکہ جبر کی صورت میں تو وہ عذاب کے مستحق ہی قرار نہ پاتے۔