سورہ Ya-Sin — آیت 40
یٰسٓ · 36:40 · 40/83
لَا ٱلشَّمْسُ يَنۢبَغِى لَهَآ أَن تُدْرِكَ ٱلْقَمَرَ وَلَا ٱلَّيْلُ سَابِقُ ٱلنَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ
La ashshamsu yanbaghee lahaan tudrika alqamara wala allaylu sabiqu annahariwakullun fee falakin yasbahoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں
محمد جوناگڑھی
نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن پرآگے بڑھ جانے والی ہے، اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
نہ سُورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے۔ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
نہ تو سورج کے لیے ممکن ہے کہ وہ چاند کو پکڑ لے اور نہ ہی رات دن سے آگے نکل سکتی ہے ور یہ سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
نہ آفتاب کی یہ مجال ہے کہ چاند کو پکڑے[1] اور نہ رات دن پرآگے بڑھ جانے والی ہے[2]، اور سب کے سب آسمان میں تیرتے پھرتے ہیں.[3]
حواشی
[1] یعنی سورج کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے جس سے اس کی روشنی ختم ہو جائے بلکہ دونوں کا اپنا اپنا راستہ اور الگ الگ حد ہے۔ سورج دن ہی کو اور چاند رات ہی کو طلوع ہوتا ہے اس کے برعکس کبھی نہیں ہوا، جو ایک مدبر کائنات کے وجود پر ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ [2] بلکہ یہ بھی ایک نظام میں بندھےہوئے ہیں اور ایک، دوسرے کے بعد آتے ہیں۔ [3] كُلٌّ سے سورج، چاند یا اس کےدوسرے کواکب مراد ہیں، سب اپنے اپنے مدار پر گھومتے ہیں، ان کا باہمی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔