سورہ Taha — آیت 77
طٰہٰ · 20:77 · 77/135
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِى فَٱضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِى ٱلْبَحْرِ يَبَسًا لَّا تَخَـٰفُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَىٰ
Walaqad awhayna ilamoosa an asri biAAibadee fadriblahum tareeqan fee albahri yabasan la takhafudarakan wala takhsha
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ پھر ان کے لئے دریا میں (لاٹھی مار کر) خشک رستہ بنا دو پھر تم کو نہ تو (فرعون کے) آپکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ (غرق ہونے کا) ڈر
محمد جوناگڑھی
ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تو راتوں رات میرے بندوں کو لے چل، اور ان کے لئے دریا میں خشک راستہ بنا لے، پھر نہ تجھے کسی کے آپکڑنے کا خطره ہوگا نہ ڈر.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
ہم نے موسیٰؑ پر وحی کی کہ اب راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ، اور اُن کے لیے سمندر میں سے سُوکھی سڑک بنالے ، تجھے کسی کے تعاقب کا ذرا خوف نہ ہو اور نہ (سمندر کے بیچ سے گزرتے ہوئے)ڈر لگے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو وحی کردی تھی کہ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ پس ان کے لیے سمندر کے اندر ایک خشک راستہ بنالو (اس کیفیت میں کہ) نہ پکڑے جانے کا خوف ہو اور نہ (ڈوبنے کا) کوئی اندیشہ
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تو راتوں رات میرے بندوں کو لے چل[1] ، اور ان کے لئے دریا میں خشک راستہ بنا لے[2]، پھر نہ تجھے کسی کے آپکڑنے کا خطره ہوگا نہ ڈر.[3]
حواشی
[1] جب فرعون ایمان بھی نہیں لایا اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کرنے پر آمادہ نہیں ہوا، تو اللہ تعالٰی نے موسیٰ (عليه السلام) کو یہ حکم دیا۔ [2] اس کی تفصیل سورۃ الشعرا میں آئے گی کہ موسیٰ (عليه السلام) نے اللہ کے حکم سے سمندر میں لاٹھی ماری، جس سے سمندر میں گزرنے کے لئے خشک راستہ بن گیا۔ [3] خطرہ فرعون اور اس کے لشکر کا اور ڈر پانی میں ڈوبنے کا۔