سورہ Taha — آیت 130

طٰہٰ · 20:130 · 130/135

فَٱصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ ٱلشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ۖ وَمِنْ ءَانَآئِ ٱلَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ ٱلنَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَىٰ

Fasbir AAala mayaqooloona wasabbih bihamdi rabbika qabla tulooAAiashshamsi waqabla ghuroobiha wamin ana-iallayli fasabbih waatrafa annaharilaAAallaka tarda

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

پس جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس پر صبر کرو۔ اور سورج کے نکلنے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کیا کرو۔ اور رات کی ساعات (اولین) میں بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور دن کی اطراف (یعنی دوپہر کے قریب ظہر کے وقت بھی) تاکہ تم خوش ہوجاؤ

محمد جوناگڑھی

پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره، سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے، رات کے مختلف وقتوں میں بھی اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح کرتا ره، بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پس اے محمدؐ ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو، اور اپنےربّ کی حمد و ثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سُورج نکلنے سے پہلے اور غرُوب ہونے سے پہلے، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی، شاید کہ تم راضی ہو جاوٴ۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تو (اے نبی ﷺ !) آپ صبر کیجیے اس پر جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں اور تسبیح بیان کیجیے اپنے رب کی حمد کے ساتھ سورج طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اور رات کے کچھ اوقات میں بھی تسبیح کیجیے اور دن کے اطراف میں بھی تاکہ آپ ﷺ راضی ہوجائیں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا ره، سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے، رات کے مختلف وقتوں میں بھی اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح کرتا ره[1] ، بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے.[2]

حواشی

[1] بعض مفسرین کے نزدیک تسبیح سے مراد نماز ہے اور وہ اسے پانچ نمازوں سے مراد لیتے ہیں۔ طلوع شمس سے قبل فجر، ٖغروب سے قبل، عصر رات کی گھڑیوں سے مغرب و عشاء اور اطراف النھار سے ظہر کی نماز مراد ہے کیونکہ ظہر کا وقت، یہ نماز اول کا طرف آخر اور نہار آخر کا طرف اول ہے۔ اور بعض کے نزدیک ان اوقات میں ایسے ہی اللہ کی تسبیح و توحید ہے، جس میں نماز، تلاوت، ذکر اذکار، دعا مناجات اور نوافل سب داخل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ان مشرکین کی تکذیب سے بد دل نہ ہوں۔ اللہ کی تسبیح و تحمید کرتے رہیں۔ اللہ تعالٰی جب چاہے گا، ان کی گرفت فرما لے گا۔ [2] یہ متعلق ہے فَسَبِّحْ سے یعنی ان اوقات میں تسبیح کریں، یہ امید رکھتے ہوئے کہ اللہ کے ہاں آپ کو وہ مقام و درجہ حاصل ہو جائے گا جس سے آپ کا نفس راضی ہو جائے۔