سورہ Taha — آیت 124

طٰہٰ · 20:124 · 124/135

وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِى فَإِنَّ لَهُۥ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ أَعْمَىٰ

Waman aAArada AAan thikreefa-inna lahu maAAeeshatan danka wanahshuruhuyawma alqiyamati aAAma

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اس کی زندگی تنگ ہوجائے گی اور قیامت کو ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے

محمد جوناگڑھی

اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور جو میرے”ذکر“(درسِ نصیحت)سے منہ موڑے گا اُس کے لیے دُنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اُٹھائیں گے۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور جس نے میری یاد سے اعراض کیا تو یقیناً اس کے لیے ہوگی (دنیا کی) زندگی بہت تنگی والی اور ہم اٹھائیں گے اسے قیامت کے دن اندھا (کرکے)

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی[1] ، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے.[2]

حواشی

[1] اس تنگی سے بعض نے عذاب قبر اور بعض نے وہ، قلق واضطراب، بےچینی اور بے کلی مراد لی ہے جس میں اللہ کی یاد سے غافل بڑے بڑے دولت مند مبتلا رہتے ہیں۔ [2] اس سے مراد فی الواقع آنکھوں سے اندھا ہونا ہے یا پھر بصیرت سے محرومی مراد ہے یعنی وہاں اس کو کوئی ایسی دلیل نہیں سوجھے گی جسے پیش کر کے وہ عذاب سے چھوٹ سکے۔