سورہ Sad — آیت 75
صٓ · 38:75 · 75/88
قَالَ يَـٰٓإِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَىَّ ۖ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ ٱلْعَالِينَ
Qala ya ibleesu mamanaAAaka an tasjuda lima khalaqtu biyadayya astakbarta amkunta mina alAAaleen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
خدا نے) فرمایا کہ اے ابلیس جس شخص کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا اس کے آگے سجدہ کرنے سے تجھے کس چیز نے منع کیا۔ کیا تو غرور میں آگیا یا اونچے درجے والوں میں تھا؟
محمد جوناگڑھی
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس! تجھے اسے سجده کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
ربّ نے فرمایا”اے ابلیس، تجھے کیا چیز اُس کو سجدہ کرنے سے مانع ہوئی جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے؟ تُو بڑا بن رہا ہے یا تُو ہے ہی کچھ اُونچے درجے کی ہستیوں میں سے؟“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اللہ نے فرمایا : اے ابلیس ! تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کو سجدہ کرتا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے ؟ کیا تو نے تکبر کیا یا تو عالی مرتبہ لوگوں میں سے ہے ؟
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس! تجھے اسے سجده کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا۔ کیا[1] تو کچھ گھمنڈ میں آگیا ہے؟ یا تو بڑے درجے والوں میں سے ہے.
حواشی
[1] یہ بھی انسان کے شرف وعظمت کے اظہار ہی کے لئے فرمایا، ورنہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے۔