سورہ Saba — آیت 7
سبا · 34:7 · 7/54
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِى خَلْقٍ جَدِيدٍ
Waqala allatheena kafaroo halnadullukum AAala rajulin yunabbi-okum ithamuzziqtum kulla mumazzaqin innakum lafee khalqin jadeed
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور کافر کہتے ہیں کہ بھلا ہم تمہیں ایسا آدمی بتائیں جو تمہیں خبر دیتا ہے کہ جب تم (مر کر) بالکل پارہ پارہ ہو جاؤ گے تو نئے سرے سے پیدا ہوگے
محمد جوناگڑھی
اور کافروں نے کہا (آؤ) ہم تمہیں ایک ایسا شخص بتلائیں جو تمہیں یہ خبر پہنچا رہا ہے کہ جب تم بالکل ہی ریزه ریزه ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
منکرین لوگوں سے کہتے ہیں "ہم بتائیں تمہیں ایسا شخص جو خبر دیتا ہے کہ جب تمہارے جسم کا ذرہ ذرہ منتشر ہو چکا ہو گا اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کر دیے جاؤ گے؟
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور یہ کافر کہتے ہیں : کیا ہم تمہیں ایک ایسے شخص کے بارے میں بتائیں جو تمہیں یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم (مٹی میں مل کر) بالکل ریزہ ریزہ ہو جائو گے تو پھر تمہیں از سر ِنو پیدا کردیا جائے گا۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور کافروں نے کہا[1] (آؤ) ہم تمہیں ایک ایسا شخص بتلائیں[2] جو تمہیں یہ خبر پہنچا رہا ہے[3] کہ جب تم بالکل ہی ریزه ریزه ہوجاؤ گے تو تم پھر سے ایک نئی پیدائش میں آؤ گے.[4]
حواشی
[1] یہ اہل ایمان کے مقابلے میں منکرین کا آخرت کا قول ہے جو آپس میں انہوں نے ایک دوسرے سے کہا۔ [2] اس سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ (صلى الله عليه وسلم) ہیں جو ان کی طرف اللہ کے نبی بن کر آئے تھے۔ [3] یعنی عجیب وغریب خبر، ناقابل فہم خبر۔ [4] یعنی مرنے کے بعد جب تم مٹی میں مل کر ریزہ ریزہ ہوجاؤ گے، تمہاری ظاہری وجود ناپید ہوجائے گا، تمہیں قبروں سے دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور دوبارہ وہی شکل وصورت تمہیں عطا کردی جائے گی جس میں تم پہلے تھے۔ یہ گفتگو انہوں نے آپس میں استہزا اور مذاق کے طور پر کی۔