سورہ Saba — آیت 22

سبا · 34:22 · 22/54

قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍ وَمَا لَهُۥ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍ

Quli odAAoo allatheena zaAAamtum mindooni Allahi la yamlikoona mithqala tharratinfee assamawati wala fee al-ardiwama lahum feehima min shirkin wama lahuminhum min thaheer

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) خیال کرتے ہو ان کو بلاؤ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ان میں ان کی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی خدا کا مددگار ہے

محمد جوناگڑھی

کہہ دیجیئے! کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے (سب) کو پکار لو، نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذره کا اختیار ہے نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

(اے نبیؐ ، اِن مشرکین سے)کہو کہ پکار دیکھو اپنے اُن معبُودوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبُود سمجھے بیٹھے ہو ۔ وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرّہ برابر چیز کے مالک ہیں نہ زمین میں۔ وہ آسمان و زمین کی ملکیّت میں شریک بھی نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار بھی نہیں ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

(اے نبی ﷺ ! ان مشرکین سے) کہیے کہ تم بلائو ان کو جنہیں تم نے (معبود) گمان کیا ہے اللہ کے سوا وہ ذرّہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے نہ آسمانوں میں اور نہ ہی زمین میں اور نہ ان دونوں (زمین اور آسمان) میں ان کا کوئی حصہ ہے اور نہ ہی ان میں سے کوئی اس کا مدد گار ہے۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

کہہ دیجیئے! کہ اللہ کے سوا جن جن کا تمہیں گمان ہے (سب) کو پکار لو[1] ، نہ ان میں سے کسی کو آسمانوں اور زمینوں میں سے ایک ذره کا اختیار ہے[2] نہ ان کا ان میں کوئی حصہ ہے[3] نہ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار ہے.[4]

حواشی

[1] یعنی معبود ہونے کا۔ یہاں زَعَمْتُمْ کے دو مفعول محذوف ہیں۔ زَعَمْتُمُوهُمْ آلِهَةً، یعنی جن جن کو تم معبود گمان کرتے ہو۔ [2] یعنی انہیں نہ خیر پر کوئی اختیار ہے نہ شر پر۔ کسی کو فائدہ پہنچانے کی قدرت ہے، نہ نقصان سے بچانے کی۔ آسمان وزمین کا ذکر عموم کے لئے ہے، کیونکہ تمام خارجی موجودات کے لئے یہی ظرف ہیں۔ [3] نہ پیدائش میں، نہ ملکیت میں اور نہ تصرف میں۔ [4] جو کسی معاملے میں بھی اللہ کی مدد کرتا ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی بلا شرکت غیرے تمام اختیارات کا ملک ہے اور کسی کے تعاون کے بغیر ہی سارے کام کرتا ہے۔