سورہ Saba — آیت 1
سبا · 34:1 · 1/54
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى لَهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ وَلَهُ ٱلْحَمْدُ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ ۚ وَهُوَ ٱلْحَكِيمُ ٱلْخَبِيرُ
Alhamdu lillahi allatheelahu ma fee assamawati wamafee al-ardi walahu alhamdu fee al-akhiratiwahuwa alhakeemu alkhabeer
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے (جو سب چیزوں کا مالک ہے یعنی) وہ کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے۔ اور وہ حکمت والا خبردار ہے
محمد جوناگڑھی
تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس کی ملکیت میں وه سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے آخرت میں بھی تعریف اسی کے لئے ہے، وه (بڑی) حکمتوں واﻻ اور (پورا) خبردار ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
حمد اُس خدا کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے اور آخرت میں بھی اسی کے لیے حمد ہے ۔ وہ دانا اور باخبر ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
کل حمد اور کل شکر اس اللہ کے لیے ہے جس کی ملکیت ہے ہر وہ شے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور آخرت میں بھی اسی کے لیے حمد ہوگی اور وہ کمال حکمت والا ہرچیز سے باخبر ہے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے سزاوار ہیں جس کی ملکیت میں وه سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے[1] آخرت میں بھی تعریف اسی کے لئے ہے[2]، وه (بڑی) حکمتوں واﻻ اور (پورا) خبردار ہے.
حواشی
[1] یعنی اسی کی ملکیت اور تصرف میں ہے، اسی کا ارادہ اور فیصلہ اس میں نافذ ہوتا ہے۔ انسان کو جو نعمت بھی ملتی ہے، وہ اسی کی پیدا کردہ ہے اور اسی کا احسان ہے، اسی لئے آسمان وزمین کی ہر چیز کی تعریف دراصل ان نعمتوں پر اللہ ہی کی حمدوتعریف ہے جن سے اس نے اپنی مخلوق کو نوازا ہے۔ [2] یہ تعریف قیامت والے دن اہل ایمان کریں گے مثلاً «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ» (سورة الزمر:74) «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَذَا» (سورة الأعرا: 43) «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ» (فاطر: 34) وَغَيْرهَا مِنَ الآيَاتِ تاہم دنیا میں اللہ کی حمد وتعریف، عبادت ہے جس کا مکلف انسان کو بنایا گیا ہے اور آخرت میں یہ اہل ایمان کی روحانی خوراک ہوگی، جس سے انہیں لذت وفرحت محسوس ہوا کرے گی۔ (فتح القدیر)۔