سورہ Muhammad — آیت 36

محمدﷺ · 47:36 · 36/38

إِنَّمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ ۚ وَإِن تُؤْمِنُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ يُؤْتِكُمْ أُجُورَكُمْ وَلَا يَسْـَٔلْكُمْ أَمْوَٰلَكُمْ

Innama alhayatu addunyalaAAibun walahwun wa-in tu'minoo watattaqoo yu'tikum ojoorakumwala yas-alkum amwalakum

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

دنیا کی زندگی تو محض کھیل اور تماشا ہے۔ اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو وہ تم کو تمہارا اجر دے گا۔ اور تم سے تمہارا مال طلب نہیں کرے گا

محمد جوناگڑھی

واقعی زندگانیٴ دنیا تو صرف کھیل کود ہے اور اگر تم ایمان لے آؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو اللہ تمہیں تمہارے اجر دے گا اور وه تم سے تمہارے مال نہیں مانگتا.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

یہ دنیا کی زندگی  تو ایک کھیل اور تماشا ہے۔ اگر تم ایمان رکھو اور تقوٰی کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا اور وہ تمہارے مال تم سے نہ مانگے گا۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

یہ دنیا کی زندگی تو محض کھیل ہے اور کچھ جی کا بہلانا ہے۔ اور اگر تم لوگ ایمان لائو اور تقویٰ اختیار کیے رہو تو وہ تمہیں تمہارے اجر عطا کرے گا اور تم سے تمہارے اموال نہیں مانگے گا۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

واقعی زندگانیٴ دنیا تو صرف کھیل کود ہے[1] اور اگر تم ایمان لے آؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو اللہ تمہیں تمہارے اجر دے گا اور وه تم سے تمہارے مال نہیں مانگتا.[2]

حواشی

[1] یعنی ایک فریب اور دھوکہ ہے، اس کی کسی چیز کی بنیاد ہے نہ اس کو ثبات اور نہ اس کا اعتبار۔ [2] یعنی وہ تمہارے مالوں سے بےنیاز ہے۔ اسی لئے اس نےتم سے زکوٰۃ میں کل مال کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ اس کے ایک نہایت قلیل حصے کا یعنی صرف ڈھائی فیصد کا اور وہ بھی ایک سال کے بعد اپنی ضرورت سےزیادہ ہونے پر، علاوہ ازیں اس کا مقصد بھی تمہارے اپنے ہی بھائی بندوں کی مدد اور خیر خواہی ہے نہ کہ اللہ اس مال سے اپنی حکومت کے اخراجات پورےکرتا ہے۔