سورہ Muhammad — آیت 2
محمدﷺ · 47:2 · 2/38
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَءَامَنُوا۟ بِمَا نُزِّلَ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۙ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّـَٔاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ
Wallatheena amanoowaAAamiloo assalihati waamanoo bimanuzzila AAala muhammadin wahuwa alhaqqu minrabbihim kaffara AAanhum sayyi-atihim waaslahabalahum
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور جو (کتاب) محمدﷺ پر نازل ہوئی اسے مانتے رہے اور وہ ان کے پروردگار کی طرف سے برحق ہے ان سے ان کے گناہ دور کردیئے اور ان کی حالت سنوار دی
محمد جوناگڑھی
اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور اچھے کام کیے اور اس پر بھی ایمان ﻻئے جو محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ پر اتاری گئی ہے اور دراصل ان کے رب کی طرف سے سچا (دین) بھی وہی ہے، اللہ نے ان کے گناه دور کر دیئے اور ان کے حال کی اصلاح کر دی.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور جو لوگ ایما ن لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اس چیز کو مان لیا جو محمد ؐ پر نازل ہوئی ہے۔۔۔۔اور ہے وہ سراسر حق ان کے رب کی طرف سے۔۔۔۔اللہ نے ان کی برائیاں ان سے دور کر دیں اور ان کا حال درست کر دیا۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے اور جو ایمان لائے اس شے پر جو نازل کی گئی محمد ﷺ پر اور وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے } اللہ نے دور کردیں ان سے ان کی خطائیں اور ان کے حال کو سنوار دیا۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور اچھے کام کیے اور اس پر بھی ایمان ﻻئے جو محمد ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ پر اتاری گئی[1] ہے اور دراصل ان کے رب کی طرف سے سچا (دین) بھی وہی ہے، اللہ نے ان کے گناه دور کر دیئے[2] اور ان کے حال کی اصلاح کر دی.[3]
حواشی
[1] ایمان میں اگرچہ وحی محمدی یعنی قرآن پاک پر ایمان لانا بھی شامل ہے لیکن اس کی اہمیت اور شرف کو مزید واضح اور نمایاں کرنے کے لئے اس کا علیحدہ بھی ذکر فرما دیا۔ [2] یعنی ایمان لانے سے قبل کی غلطیاں اور کوتاہیاں معاف فرما دیں۔ جیسا کہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کا بھی فرمان ہے کہ (اسلام ماقبل کے سارے گناہوں کو مٹا دیتا ہے)۔ (صحيح الجامع الصغير لألباني)۔ [3] بَالَهُمْ : کے معنی أَمْرَهُمْ، شَاْنَهُمْ، حالھم، یہ سب متقارب المعنی ہیں۔ مطلب ہے کہ انہیں معاصی سے بچا کر رشد وخیر کی راہ پر لگا دیا، ایک مومن کے لئے اصلاح حال کی یہی سب سے بہتر صورت ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ مال ودولت کے ذریعے سے ان کی حالت درست کر دی۔ کیونکہ ہر مومن کو مال ملتا بھی نہیں، علاوہ ازیں محض دنیوی مال اصلاح واحوال کا یقینی ذریعہ بھی نہیں، بلکہ اس سے فساد احوال کا زیادہ امکان ہے۔ اسی لئے نبی (صلى الله عليه وسلم) نے کثرت مال کو پسند نہیں فرمایا۔