سورہ Muhammad — آیت 14

محمدﷺ · 47:14 · 14/38

أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِۦ كَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَهْوَآءَهُم

Afaman kana AAala bayyinatinmin rabbihi kaman zuyyina lahu soo-o AAamalihi wattabaAAooahwaahum

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

بھلا جو شخص اپنے پروردگار (کی مہربانی) سے کھلے رستے پر (چل رہا) ہو وہ ان کی طرح (ہوسکتا) ہے جن کے اعمال بد انہیں اچھے کرکے دکھائی جائیں اور جو اپنی خواہشوں کی پیروی کریں

محمد جوناگڑھی

کیا پس وه شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل پر ہو اس شخص جیسا ہو سکتا ہے؟ جس کے لئے اس کا برا کام مزین کر دیا گیا ہو اور وه اپنی نفسانی خواہشوں کا پیرو ہو؟

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف و صریح ہدایت پر ہو، وہ ان لوگوں کی طرح ہو جا ئے جن کے لیے ان کا برا عمل خوشنما  بنا دیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیروبن گئے ہیں؟

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تو بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہے وہ اس شخص جیسا ہوجائے گا جس کے لیے اس کے ُ برے اعمال مزین ّکر دیے گئے ہیں اور انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے۔

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

کیا پس وه شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل پر ہو اس شخص جیسا ہو سکتا ہے؟ جس کے لئے اس کا برا کام مزین کر دیا گیا ہو اور وه اپنی نفسانی خواہشوں کا پیرو ہو؟[1]

حواشی

[1] برے کام سے مراد، شرک ومعصیت ہیں، مطلب وہی ہےجو پہلے بھی متعدد جگہ گزر چکا ہے کہ مومن وکافر، مشرک وموحد اور نیکو کار وبدکار برابر نہیں ہو سکتے۔ ایک کے لئے اللہ کےہاں اجر وثواب اور جنت کی نعمتیں ہیں، جب کہ دوسرے کے لئے جہنم کا ہولناک عذاب۔ اگلی آیت میں دونوں کا انجام بیان کیا جا رہا ہے۔ پہلے اس جنت کی خوبیاں اور محاسن، جن کا وعدہ متقین سے ہے۔