سورہ Maryam — آیت 37
مریم · 19:37 · 37/98
فَٱخْتَلَفَ ٱلْأَحْزَابُ مِنۢ بَيْنِهِمْ ۖ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن مَّشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيمٍ
Fakhtalafa al-ahzabumin baynihim fawaylun lillatheena kafaroo min mashhadiyawmin AAatheem
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
پھر (اہل کتاب کے) فرقوں نے باہم اختلاف کیا۔ سو جو لوگ کافر ہوئے ہیں ان کو بڑے دن (یعنی قیامت کے روز) حاضر ہونے سے خرابی ہے
محمد جوناگڑھی
پھر یہ فرقے آپس میں اختلاف کرنے لگے، پس کافروں کے لئے ویل ہے ایک بڑے (سخت) دن کی حاضری سے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
مگر پھر مختلف گروہ باہم اختلاف کرنے لگے۔ سو جن لوگوں نے کُفر کیا ان کے لیے وہ وقت بڑی تباہی کا ہوگا
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
پھر اختلافات پیدا کرلیے (مختلف) گروہوں نے آپس میں۔ تو بربادی ہے ان کافروں کے لیے اس بڑے دن کی پیشی سے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
پھر یہ فرقے آپس میں اختلاف کرنے لگے[1] ، پس کافروں کے لئے ویل ہے ایک بڑے (سخت) دن کی حاضری سے.[2]
حواشی
[1] یہاں الاحزاب سے مراد کتاب کے فرقے اور خود عیسائیوں کے فرقے ہیں۔ جنہوں نے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے بارے میں باہم اختلاف کیا۔ یہود نے کہا کہ وہ جادوگر اور(نعوذ باللہ) ولد الزنا یعنی یوسف نجار کے بیٹے ہیں۔ نصاریٰ کے نسطوریہ فرقے نے کہا کہ وہ ابن اللہ ہیں۔ ملکیہ یا سلطانیہ (کیتھولک) فرقے نے کہا وہ ثَالِثُ ثَلاثَةٍ (تین خداؤں میں سے تیسرے) ہیں اور تیسرے فرقے یعقوبیہ (آرتھوڈکس) نے کہا، وہ اللہ ہیں۔ پس یہودیوں نے تفریط اور تقصیر کی عیسائیوں نے افراط وغلو (الیسرا لتفاسیر، فتح القدیر) [2] ان کافروں کے لئے جنہوں نے عیسیٰ (عليه السلام) کے بارے میں اس طرح اختلاف اور افراط کا ارتکاب کیا، قیامت والے دن جب وہاں حاضر ہوں گے، ہلاکت ہے۔