سورہ Ibrahim — آیت 22

ابراہیم · 14:22 · 22/52

وَقَالَ ٱلشَّيْطَـٰنُ لَمَّا قُضِىَ ٱلْأَمْرُ إِنَّ ٱللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ ٱلْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِىَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَـٰنٍ إِلَّآ أَن دَعَوْتُكُمْ فَٱسْتَجَبْتُمْ لِى ۖ فَلَا تَلُومُونِى وَلُومُوٓا۟ أَنفُسَكُم ۖ مَّآ أَنَا۠ بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ أَنتُم بِمُصْرِخِىَّ ۖ إِنِّى كَفَرْتُ بِمَآ أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

Waqala ashshaytanulamma qudiya al-amru inna Allaha waAAadakumwaAAda alhaqqi wawaAAadtukum faakhlaftukum wama kanaliya AAalaykum min sultanin illa an daAAawtukum fastajabtumlee fala taloomoonee waloomoo anfusakum ma anabimusrikhikum wama antum bimusrikhiyya inneekafartu bima ashraktumooni min qablu inna aththalimeenalahum AAathabun aleem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

جب (حساب کتاب کا) کام فیصلہ ہوچکے گا تو شیطان کہے گا (جو) وعدہ خدا نے تم سے کیا تھا (وہ تو) سچا (تھا) اور (جو) وعدہ میں نے تم سے کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔ اور میرا تم پر کسی طرح کا زور نہیں تھا۔ ہاں میں نے تم کو (گمراہی اور باطل کی طرف) بلایا تو تم نے (جلدی سے اور بےدلیل) میرا کہا مان لیا۔ تو (آج) مجھے ملامت نہ کرو۔ اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرسکتے ہو۔ میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ تم پہلے مجھے شریک بناتے تھے۔ بےشک جو ظالم ہیں ان کے لیے درد دینے والا عذاب ہے

محمد جوناگڑھی

جب اور کام کا فیصلہ کردیا جائے گا تو شیطان کہے گا کہ اللہ نے تو تمہیں سچا وعده دیا تھا اور میں نے تم سے جو وعدے کیے تھے ان کے خلاف کیا، میرا تم پر کوئی دباؤ تو تھا ہی نہیں، ہاں میں نے تمہیں پکارا اور تم نے میری مان لی، پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمہارا فریاد رس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے، میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے، یقیناً ﻇالموں کے لیے دردناک عذاب ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور جب فیصلہ چُکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا ”حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کیے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے اُن میں سے کوئی بھی پُورا نہ کیا ، میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تمہیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبّیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری۔اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اُس سے بری الذّمہ ہوں، ایسے ظالموں کے لیے تو دردناک سزا یقینی ہے۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور شیطان کہے گا (اس وقت) جب فیصلہ چکا دیا جائے گا (دیکھو لوگو !) اللہ نے تم سے ایک وعدہ کیا تھا سچا وعدہ اور میں نے بھی تم سے وعدے کیے تھے تو میں نے تم سے (اپنے وعدوں کی) خلاف ورزی کی لیکن میرے پاس تم پر کوئی اختیار نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں نے تم لوگوں کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت کو قبول کرلیا تو اب تم لوگ مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو ملامت کرو اب نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں نہ تم میری فریاد کو پہنچ سکتے ہو بلاشبہ میں انکار کرتا ہوں اس کا جو قبل ازیں تم مجھے (اللہ کا) شریک ٹھہراتے رہے تھے یقیناً ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے