سورہ Hud — آیت 66
حود · 11:66 · 66/123
فَلَمَّا جَآءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا صَـٰلِحًا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَمِنْ خِزْىِ يَوْمِئِذٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلْقَوِىُّ ٱلْعَزِيزُ
Falamma jaa amrunanajjayna salihan wallatheena amanoomaAAahu birahmatin minna wamin khizyi yawmi-ithininna rabbaka huwa alqawiyyu alAAazeez
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچالیا۔ اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا)۔ بےشک تمہارا پروردگار طاقتور اور زبردست ہے
محمد جوناگڑھی
پھر جب ہمارا فرمان آپہنچا، ہم نے صالح کو اور ان پر ایمان ﻻنے والوں کو اپنی رحمت سے اس سے بھی بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی۔ یقیناً تیرا رب نہایت توانا اور غالب ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
آخرِ کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالح ؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بچا لیا اور اُس دن کی رُسوائی سے ان کو محفوظ رکھا۔ بے شک تیرا ربّ ہی دراصل طاقتور اور بالا دست ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
تو جب ہمارا فیصلہ آگیا تو ہم نے نجات دی صالح کو اور ان کو جو آپ کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے (انہیں بچا لیا)۔ یقیناً آپ کا پروردگار بہت طاقتور زبردست ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
پھر جب ہمارا فرمان آپہنچا[1] ، ہم نے صالح کو اور ان پر ایمان ﻻنے والوں کو اپنی رحمت سے اس سے بھی بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی۔ یقیناً تیرا رب نہایت توانا اور غالب ہے.
حواشی
[1] اس سے مراد وہی عذاب ہے جو وعدے کے مطابق چوتھے دن آیا اور حضرت صالح (عليه السلام) اور ان پر ایمان لانے والوں کے سوا، سب کو ہلاک کر دیا گیا۔