سورہ Hud — آیت 48

حود · 11:48 · 48/123

قِيلَ يَـٰنُوحُ ٱهْبِطْ بِسَلَـٰمٍ مِّنَّا وَبَرَكَـٰتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ ۚ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ

Qeela ya noohu ihbitbisalamin minna wabarakatin AAalayka waAAalaomamin mimman maAAaka waomamun sanumattiAAuhum thumma yamassuhumminna AAathabun aleem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

حکم ہوا کہ نوح ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ (جو) تم پر اور تمہارے ساتھ کی جماعتوں پر (نازل کی گئی ہیں) اتر آؤ۔ اور کچھ اور جماعتیں ہوں گی جن کو ہم (دنیا کے فوائد سے) محظوظ کریں گے پھر ان کو ہماری طرف سے عذاب الیم پہنچے گا

محمد جوناگڑھی

فرما دیا گیا کہ اے نوح! ہماری جانب سے سلامتی اور ان برکتوں کے ساتھ اتر، جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کی بہت سی جماعتوں پر اور بہت سی وه امتیں ہوں گی جنہیں ہم فائده تو ضرور پہنچائیں گے لیکن پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

حکم ہوا”اے نوح ؑ اُتر جا، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تُجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں، اور کچھ گروہ ایسے بھی ہیں جن کو ہم کچھ مدّت سامانِ زندگی بخشیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

حکم ہوا اے نوح اتر جاؤ ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ جو آپ پر بھی ہوں گی اور ان امتوں پر بھی جو آپ کے ساتھیوں کی نسلوں سے وجود میں آئیں گی اور کچھ اور قومیں (بھی ہوں گی) جنہیں ہم (دنیا کے) کچھ فوائد دیں گے پھر ان کو ہماری طرف سے ایک دردناک عذاب آپکڑے گا

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

فرما دیا گیا کہ اے نوح! ہماری جانب سے سلامتی اور ان برکتوں کے ساتھ اتر[1] ، جو تجھ پر ہیں اور تیرے ساتھ کی بہت سی جماعتوں پر[2] اور بہت سی وه امتیں ہوں گی جنہیں ہم فائده تو ضرور پہنچائیں گے لیکن پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔[3]

حواشی

[1] یہ اترنا کشتی سے یا اس پہاڑ سے ہے جس پر کشتی جا کر ٹھہر گئی تھی۔ [2] اس سے مراد یا تو وہ گروہ ہیں جو حضرت نوح (عليه السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار تھے، یا آئندہ ہونے والے وہ گروہ ہیں جو ان کی نسل سے ہونے والے تھے، اگلے فقرے کے پیش نظر یہی دوسرا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔ [3] یہ وہ گروہ ہیں جو کشتی میں بچ جانے والوں کی نسل سے قیامت تک ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کافروں کو دنیا کی چند روزہ زندگی گزارنے کے لئے ہم دنیا کا سازو سامان ضرور دیں گے لیکن بالآخر عذاب الیم سے دو چار ہوں گے۔