سورہ Hud — آیت 42
حود · 11:42 · 42/123
وَهِىَ تَجْرِى بِهِمْ فِى مَوْجٍ كَٱلْجِبَالِ وَنَادَىٰ نُوحٌ ٱبْنَهُۥ وَكَانَ فِى مَعْزِلٍ يَـٰبُنَىَّ ٱرْكَب مَّعَنَا وَلَا تَكُن مَّعَ ٱلْكَـٰفِرِينَ
Wahiya tajree bihim fee mawjin kaljibaliwanada noohunu ibnahu wakana feemaAAzilin ya bunayya irkab maAAana walatakun maAAa alkafireen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور وہ ان کو لے کر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی۔ (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ جو (کشتی سے) الگ تھا، پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو
محمد جوناگڑھی
وه کشتی انہیں پہاڑوں جیسی موجوں میں لے کر جا رہی تھی اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے لڑکے کو جو ایک کنارے پر تھا، پکار کر کہا کہ اے میرے پیارے بچے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں میں شامل نہ ره۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی نوحؑ کا بیٹا دور فاصلے پر تھا نوحؑ نے پکار کر کہا "بیٹا، ہمارے ساتھ سوار ہو جا، کافروں کے ساتھ نہ رہ"
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور وہ چل رہی تھی ان سب کو لے کر پہاڑ جیسی موجوں کے درمیان سے اور نوح نے پکارا اپنے بیٹے کو اور وہ ایک کنارے کی طرف تھا کہ اے میرے بیٹے آؤ ہمارے ساتھ (کشتی میں) سوار ہوجاؤ اور کافروں کے ساتھ مت رہو
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
وه کشتی انہیں پہاڑوں جیسی موجوں میں لے کر جا رہی تھی[1] اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے لڑکے کو جو ایک کنارے پر تھا، پکار کر کہا کہ اے میرے پیارے بچے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں میں شامل نہ ره۔[2]
حواشی
[1] یعنی جب زمین پر پانی تھا، حتٰی کے پہاڑ بھی پانی میں ڈوبے ہوئے تھے، یہ کشتی حضرت نوح (عليه السلام) اور ان کے ساتھیوں کو دامن میں سمیٹے، اللہ کے حکم سے اور اس کی حفاظت میں پہاڑ کی طرح رواں دواں تھی۔ ورنہ اتنے طوفانی پانی میں کشتی کی حیثیت ہی کیا ہوتی ہے؟ اسی لئے دوسرے مقام پر اللہ تعالٰی نے اسے بطور احسان ذکر فرمایا: «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ (1) لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» (الحاقہ :12-11) ”جب پانی میں طغیانی آ گئی تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا تاکہ اسے تمہارے لئے نصیحت اور یادگار بنا دیں اور تاکہ یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں“۔ «وَحَمَلْنَاهُ عَلَى ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ (1) تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِمَنْ كَانَ كُفِرَ»۔ (القمر: 13۔14) ”اور ہم نے اسے تخنوں اور کیلوں والی کشتی میں سوار کر لیا جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی بدلہ اسکی طرف سے جس کا کفر کیا گیا تھا“۔ [2] یہ حضرت نوح (عليه السلام) کا چوتھا بیٹا تھا جس کا لقب کنعان اور نام 'یام' تھا، اسے حضرت نوح (عليه السلام) نے دعوت دی کہ مسلمان ہو جا اور کافروں کے ساتھ شامل رہ کر غرق ہونے والوں میں سے مت ہو۔