سورہ Ghafir — آیت 28
بخشنے والا · 40:28 · 28/85
وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَـٰنَهُۥٓ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّىَ ٱللَّهُ وَقَدْ جَآءَكُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ مِن رَّبِّكُمْ ۖ وَإِن يَكُ كَـٰذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُۥ ۖ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ ٱلَّذِى يَعِدُكُمْ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ
Waqala rajulun mu'minun min alifirAAawna yaktumu eemanahu ataqtuloona rajulan an yaqoolarabbiyya Allahu waqad jaakum bilbayyinatimin rabbikum wa-in yaku kathiban faAAalayhi kathibuhuwa-in yaku sadiqan yusibkum baAAdu allatheeyaAAidukum inna Allaha la yahdee man huwa musrifunkaththab
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
اور فرعون کے لوگوں میں سے ایک مومن شخص جو اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھتا تھا کہنے لگا کیا تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور وہ تمہارے پروردگار (کی طرف) سے نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔ اور اگر وہ جھوٹا ہوگا تو اس کے جھوٹ کا ضرر اسی کو ہوگا۔ اور اگر سچا ہوگا تو کوئی سا عذاب جس کا وہ تم سے وعدہ کرتا ہے تم پر واقع ہو کر رہے گا۔ بےشک خدا اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو بےلحاظ جھوٹا ہے
محمد جوناگڑھی
اور ایک مومن شخص نے، جو فرعون کے خاندان میں سے تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کہا کہ کیا تم ایک شحض کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وه کہتا ہے میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے، اگر وه جھوٹا ہو تو اس کا جھوٹ اسی پر ہے اور اگر وه سچا ہو، تو جس (عذاب) کا وه تم سے وعده کر رہا ہے اس میں سے کچھ نہ کچھ تو تم پر آ پڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتا جو حد سے گزر جانے والے اور جھوٹے ہیں.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اس موقع پر آلِ فرعون میں سے ایک مومن شخص، جو اپنا ایمان چھُپائے ہوئے تھا، بول اُٹھا”کیا تم ایک شخص کو صرف اِس بنا پر قتل کر دو گے کہ وہ کہتا ہے میرا ربّ اللہ ہے؟ حالانکہ وہ تمہارے ربّ کی طرف سے تمہارے پاس بیّنات لے آیا۔ اگر وہ جھُوٹا ہے تو اس کا جھُوٹ خود اسی پرپلٹ پڑے گا۔ لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک تنائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرور ہی آجائیں گے۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذّاب ہو۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور آل فرعون میں سے ایک مومن مرد نے جو ابھی تک اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کہا کیا تم قتل کرنا چاہتے ہو ایک شخص کو محض اس لیے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ! حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آیا ہے اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر آئے گا اور اگر وہ سچا ہوا تو تمہیں وہ بعض باتیں پہنچ کر رہیں گی جن کے بارے میں وہ تمہیں وعید سنا رہا ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ راہ یاب نہیں کرتا اس کو جو حد سے بڑھنے والا بہت جھوٹا ہو