سورہ Fussilat — آیت 49

مفصل · 41:49 · 49/54

لَّا يَسْـَٔمُ ٱلْإِنسَـٰنُ مِن دُعَآءِ ٱلْخَيْرِ وَإِن مَّسَّهُ ٱلشَّرُّ فَيَـُٔوسٌ قَنُوطٌ

La yas-amu al-insanu min duAAa-ialkhayri wa-in massahu ashsharru fayaoosun qanoot

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

انسان بھلائی کی دعائیں کرتا کرتا تو تھکتا نہیں اور اگر تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہوجاتا اور آس توڑ بیٹھتا ہے

محمد جوناگڑھی

بھلائی کے مانگنے سے انسان تھکتا نہیں اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

انسان کبھی بھلائی کی دُعا مانگتے نہیں تھکتا، اور جب کوئی آفت اس پر آجاتی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہوجاتا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

انسان بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا اور اگر کہیں اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو بالکل مایوس و دل شکستہ ہوجاتا ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

بھلائی کے مانگنے سے انسان تھکتا نہیں[1] اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے.[2]

حواشی

[1] یعنی دنیا کا مال واسباب، صحت وقوت، عزت ورفعت اور دیگر دنیوی نعمتوں کے مانگنے سے انسان نہیں تھکتا، بلکہ مانگتا ہی رہتا ہے۔ انسان سے مراد انسانوں کی غالب اکثریت ہے۔ [2] یعنی تکلیف پہنچنے پر فوراً مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے، جب کہ اللہ کے مخلص بندوں کا حال اس سے مختلف ہوتا ہے۔ وہ ایک تو دنیا کے طالب نہیں ہوتے، ان کے سامنے ہر وقت آخرت ہی ہوتی ہے، دوسرے، تکلیف پہنچنے پر بھی وہ اللہ کی رحمت اور اس کے فضل سے مایوس نہیں ہوتے، بلکہ آزمائشوں کو بھی وہ کفارۂ سیئات اور رفع درجات کا باعث گردانتے ہیں۔ گویا مایوسی ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتی۔