سورہ Fussilat — آیت 43

مفصل · 41:43 · 43/54

مَّا يُقَالُ لَكَ إِلَّا مَا قَدْ قِيلَ لِلرُّسُلِ مِن قَبْلِكَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ

Ma yuqalu laka illa maqad qeela lirrusuli min qablika inna rabbaka lathoomaghfiratin wathoo AAiqabin aleem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

تم سے وہی باتیں کہیں جاتی ہیں جو تم سے پہلے اور پیغمبروں سے کہی گئی تھیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بخش دینے والا بھی اور عذاب الیم دینے والا بھی ہے

محمد جوناگڑھی

آپ سے وہی کہا جاتا ہے جو آپ سے پہلے کے رسولوں سے بھی کہا گیا ہے، یقیناً آپ کا رب معافی واﻻ اور دردناک عذاب واﻻ ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اے نبیؐ ، تم سے جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسُولوں سے نہ کہی جا چکی ہو۔ بے شک تمہارا ربّ بڑا درگزر کرنے والا ہے، اور اس کے ساتھ بڑی دردناک سزا دینے والا بھی ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

(اے نبی ﷺ !) نہیں کہا جاتا آپ سے مگر وہی کچھ جو آپ سے پہلے رسولوں سے کہا گیا تھا یقینا آپ کا رب مغفرت والا بھی ہے اور دردناک سزا دینے والا بھی

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

آپ سے وہی کہا جاتا ہے جو آپ سے پہلے کے رسولوں سے بھی کہا گیا ہے[1] ، یقیناً آپ کا رب معافی واﻻ[2] اور دردناک عذاب واﻻ ہے.[3]

حواشی

[1] یعنی پچھلی قوموں نے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کے لیے جوکچھ کہا کہ یہ ساحر ہیں، مجنون ہیں، کذاب ہیں وغیرہ وغیرہ، وہی کچھ کفار مکہ نےبھی آپ (صلى الله عليه وسلم) کو کہا ہے۔ یہ گویا آپ (صلى الله عليه وسلم) کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کی تکذیب اور آپ (صلى الله عليه وسلم) کی سحر، کذب اور جنون کی طرف نسبت، نئی بات نہیں ہے، ہر پیغمبر کے ساتھ یہی کچھ ہوتا آیا ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا «مَا أَتَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلا قَالُوا سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ ، أَتَوَاصَوْا بِهِ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ» (الذاريات: 53،52) دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کو توحید اور اخلاص کا جو حکم دیا گیا ہے، یہ وہی باتیں ہیں جو آپ (صلى الله عليه وسلم) سے پہلے رسولوں کو بھی کہی گئی تھیں۔ اس لیے کہ تمام شریعتیں ان باتوں پر متفق رہی ہیں بلکہ سب کی اولین دعوت ہی توحید و اخلاص تھی۔ (فتح القدیر)۔ [2] یعنی ان اہل ایمان و توحید کے لیے جو مستحق مغفرت ہیں۔ [3] ان کےلیے جوکافر اور اللہ کے پیغمبروں کےدشمن ہیں۔ یہ آ یت بھی سورۂ حجرکی آیت «نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ، وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الأَلِيمُ» کی طرح ہے۔