سورہ Fussilat — آیت 34
مفصل · 41:34 · 34/54
وَلَا تَسْتَوِى ٱلْحَسَنَةُ وَلَا ٱلسَّيِّئَةُ ۚ ٱدْفَعْ بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ فَإِذَا ٱلَّذِى بَيْنَكَ وَبَيْنَهُۥ عَدَٰوَةٌ كَأَنَّهُۥ وَلِىٌّ حَمِيمٌ
Wala tastawee alhasanatu walaassayyi-atu idfaAA billatee hiya ahsanufa-itha allathee baynaka wabaynahu AAadawatunkaannahu waliyyun hameem
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی۔ تو (سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے) کہ جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے
محمد جوناگڑھی
نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی۔ برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور اے نبیؐ ،نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور (دیکھو !) اچھائی اور برائی برابر نہیں ہوتے تم مدافعت کرو بہترین طریقے سے تو (تم دیکھو گے کہ) وہی شخص جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے وہ گویا گرم جوش دوست بن جائے گا
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
نیکی اور بدی برابر نہیں ہوتی[1] ۔ برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست.[2]
حواشی
[1] بلکہ ان میں عظیم فرق ہے۔ [2] یہ ایک بہت ہی اہم اخلاقی ہدایت ہےکہ برائی کو اچھائی کے ساتھ ٹالو۔ یعنی برائی کا بدلہ احسان کے ساتھ، زیادتی کا بدلہ عفو کے ساتھ، غضب کا صبر کے ساتھ، بےہودگیوں کا جواب چشم پوشی کے ساتھ اور مکروہات (ناپسندیدہ باتوں کا) کا جواب برداشت اور حلم کے ساتھ دیا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گاکہ تمہارا دشمن، دوست بن جائے گا، دور دور رہنے والا قریب ہو جائے گا اور خون کاﭘیاسا، تمہارا گرویدہ اور جانثار ہو جائے گا۔