سورہ Fussilat — آیت 30
مفصل · 41:30 · 30/54
إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَـٰمُوا۟ تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا۟ وَلَا تَحْزَنُوا۟ وَأَبْشِرُوا۟ بِٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ
Inna allatheena qaloo rabbunaAllahu thumma istaqamoo tatanazzalu AAalayhimualmala-ikatu alla takhafoo wala tahzanoowaabshiroo biljannati allatee kuntum tooAAadoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار خدا ہے پھر وہ (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اُتریں گے (اور کہیں گے) کہ نہ خوف کرو اور نہ غمناک ہو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ
محمد جوناگڑھی
(واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اسی پر قائم رہے ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے آتے ہیں کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعده دیئے گئے ہو.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا ربّ ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقیناً اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ”نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہو جاوٴ اُس جنّت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
بیشک وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے کہ آپ لوگ ڈرو نہیں اور غمگین نہ ہو اور خوشیاں منائو اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
(واقعی) جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے[1] پھر اسی پر قائم رہے[2] ان کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے آتے ہیں[3] کہ تم کچھ بھی اندیشہ اور غم نہ کرو[4] (بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم وعده دیئے گئے ہو.[5]
حواشی
[1] یعنی ایک اللہ وحدہ لاشریک . رب بھی وہی اور معبود بھی وہی . یہ نہیں کہ ربوبیت کا تو اقرار ، لیکن الوہیت میں دوسروں کو بھی شریک کیا جارہا ہے۔ [2] یعنی سخت سے سخت حالات میں بھی ایمان و توحید پر قائم رہے، اس سے انحراف نہیں کیا بعض نےاستقامت کے معنی اخلاص کیے ہیں۔ یعنی صرف ایک اللہ ہی کی عبادت واطاعت کی۔ جس طرح حدیث میں بھی آتا ہے، ایک شخص نے رسول (صلى الله عليه وسلم) سے کہا مجھےایسی بات بتلا دیں کہ آپ (صلى الله عليه وسلم) کے بعد کسی سے مجھے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔ آپ (صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا، ”قُلْ آمَنْتُ بِاللهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ“ (صحيح مسلم- كتاب الإيمان، باب جامع أوصاف الإسلام) (کہہ، میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر استقامت اختیار کر)۔ [3] یعنی موت کے وقت، بعض کہتےہیں، فرشتے یہ خوش خبری تین جگہوں پر دیتے ہیں، موت کے وقت، قبر میں اور قبر سے دوبارہ اٹھنے کے وقت۔ [4] یعنی آخرت میں پیش آنے والے حالات کا اندیشہ اور دنیا میں مال و اولاد جو چھوڑ آئے ہو، ان کا غم نہ کرو۔ [5] یعنی دنیامیں جس کا وعدہ تمہیں دیا گیا تھا۔