سورہ Fussilat — آیت 17
مفصل · 41:17 · 17/54
وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَـٰهُمْ فَٱسْتَحَبُّوا۟ ٱلْعَمَىٰ عَلَى ٱلْهُدَىٰ فَأَخَذَتْهُمْ صَـٰعِقَةُ ٱلْعَذَابِ ٱلْهُونِ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ
Waamma thamoodu fahadaynahumfastahabboo alAAama AAala alhudafaakhathat-hum saAAiqatu alAAathabi alhoonibima kanoo yaksiboon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور جو ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا رستہ دکھا دیا تھا مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا دھند رہنا پسند کیا تو ان کے اعمال کی سزا میں کڑک نے ان کو آپکڑا۔ اور وہ ذلت کا عذاب تھا
محمد جوناگڑھی
رہے ﺛمود، سو ہم نے ان کی بھی رہبری کی پھر بھی انہوں نے ہدایت پر اندھے پن کو ترجیح دی جس بنا پر انہیں (سراپا) ذلت کے عذاب، کی کڑک نے ان کے کرتوتوں کے باعﺚ پکڑ لیا.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
رہے ثمود، تو ان کے سامنے ہم نے راہ راست پیش کی مگر انہوں نے راستہ دیکھنے کے بجائے اندھا بنا رہنا پسند کیا آخر اُن کے کرتوتوں کی بدولت ذلت کا عذاب اُن پر ٹوٹ پڑا
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور جو قوم ثمود تھی ان کو ہم نے ہدایت کی راہ دکھائی لیکن انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھے پن کو ہی پسند کیا توا نہیں بھی آپکڑا ذلت کے عذاب کی ہولناک کڑک نے ان کے کرتوتوں کی پاداش میں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
رہے ﺛمود، سو ہم نے ان کی بھی رہبری کی[1] پھر بھی انہوں نے ہدایت پر اندھے پن کو ترجیح دی[2] جس بنا پر انہیں (سراپا) ذلت کے عذاب، کی کڑک نے ان کے کرتوتوں کے باعﺚ پکڑ لیا.[3]
حواشی
[1] یعنی ان کو توحید کی دعوت دی، اس کے دلائل ان کےسامنے واضح کیے اور ان کے پیغمبر حضرت صالح (عليه السلام) کے ذریعے سے ان پر حجت تمام کی۔ [2] یعنی انہوں نے مخالفت اور تکذیب کی، حتیٰ کہ اس اونٹنی تک کو ذبح کر ڈالا جو بطور معجزہ، ان کی خواہش پر چٹان سے ظاہر کی گئی تھی اورپیغمبر کی صداقت کی دلیل تھی۔ [3] صَاعِقَةٌ، عذاب شدید کو کہتے ہیں، ان پریہ سخت عذاب چنگھاڑ اور زلزلے کی صورت میں آیا، جس نے انہیں ذلت و رسوائی کے ساتھ تباہ وبر باد کر دیا۔