سورہ Az-Zumar — آیت 49

گروہ · 39:49 · 49/75

فَإِذَا مَسَّ ٱلْإِنسَـٰنَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَـٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَىٰ عِلْمٍۭ ۚ بَلْ هِىَ فِتْنَةٌ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ

Fa-itha massa al-insana durrundaAAana thumma itha khawwalnahuniAAmatan minna qala innama ooteetuhu AAalaAAilmin bal hiya fitnatun walakinna aktharahum layaAAlamoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت بخشتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے (میرے) علم (ودانش) کے سبب ملی ہے۔ (نہیں) بلکہ وہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے

محمد جوناگڑھی

انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرمادیں تو کہنے لگتا ہے کہ اسے تو میں محض اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہوں، بلکہ یہ آزمائش ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

یہی انسان جب ذرا سی مصیبت اِسے چھُوجاتی ہے تو ہمیں پُکارتا ہے، اور جب ہم اسے اپنی  طرف سے نعمت دے کر  اَپھار دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے! نہیں، بلکہ یہ آزمائش ہے ، مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تو جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اسے لپیٹ دیتے ہیں اپنی نعمت میں تو وہ کہتا ہے مجھے تو یہ ملا ہے اپنے علم کی بنیاد پر بلکہ یہ تو ایک آزمائش ہے لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی