سورہ Az-Zumar — آیت 21
گروہ · 39:21 · 21/75
أَلَمْ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَسَلَكَهُۥ يَنَـٰبِيعَ فِى ٱلْأَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِهِۦ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا أَلْوَٰنُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُۥ حُطَـٰمًا ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ
Alam tara anna Allaha anzala mina assama-imaan fasalakahu yanabeeAAa fee al-ardithumma yukhriju bihi zarAAan mukhtalifan alwanuhu thummayaheeju fatarahu musfarran thumma yajAAaluhu hutamaninna fee thalika lathikra li-olee al-albab
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا آسمان سے پانی نازل کرتا پھر اس کو زمین میں چشمے بنا کر جاری کرتا پھر اس سے کھیتی اُگاتا ہے جس کے طرح طرح کے رنگ ہوتے ہیں۔ پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو تم اس کو دیکھتے ہو (کہ) زرد (ہوگئی ہے) پھر اسے چورا چورا کر دیتا ہے۔ بےشک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے
محمد جوناگڑھی
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتارتا ہے اور اسے زمین کی سوتوں میں پہنچاتا ہے، پھر اسی کے ذریعہ سے مختلف قسم کی کھیتیاں اگاتا ہے پھر وه خشک ہو جاتی ہیں اور آپ انہیں زرد رنگ دیکھتے ہیں پھر انہیں ریزه ریزه کر دیتا ہے، اس میں عقل مندوں کے لئے بہت زیاده نصیحت ہے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاوٴں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا، پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں پک کر سُوکھ جاتی ہیں، پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑ گئیں ، پھر آخر کار اللہ اُن کو بھُس بنا دیتا ہے۔ درحقیقت اِس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر اس کو چلا دیا چشموں کی شکل میں زمین میں پھر اس کے ذریعے سے وہ نکالتا ہے کھیتی جس کے مختلف رنگ ہیں پھر وہ پک کر تیار ہوجاتی ہے پھر تم اسے دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی ہے پھر وہ اسے چورا چورا کردیتا ہے۔ یقینا اس میں یاد دہانی (اور سبق) ہے ہوشمند لوگوں کے لیے۔