سورہ Az-Zumar — آیت 2
گروہ · 39:2 · 2/75
إِنَّآ أَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ بِٱلْحَقِّ فَٱعْبُدِ ٱللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ ٱلدِّينَ
Inna anzalna ilayka alkitababilhaqqi faAAbudi Allaha mukhlisanlahu addeen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
(اے پیغمبر) ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف سچائی کے ساتھ نازل کی ہے تو خدا کی عبادت کرو (یعنی) اس کی عبادت کو (شرک سے) خالص کرکے
محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
(اے محمدؐ)یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف برحق نازل کی ہے ، لہٰذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو دین کو اُسی کی لیے خالص کرتے ہوئے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
(اے نبی ﷺ !) ہم نے آپ پر یہ کتاب اتاری ہے حق کے ساتھ پس بندگی کرو اللہ کی اپنی اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
یقیناً ہم نے اس کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ[1] نازل فرمایا ہے پس آپ اللہ ہی کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے.[2]
حواشی
[1] یعنی اس میں توحید ورسالت، معاد اور احکام وفرائض کا جو اثبات کیا گیا ہے، وہ سب حق ہے اور انہی کے ماننے اور اختیار کرنے میں انسان کی نجات ہے۔ [2] دین کے معنی یہاں عبادت اور اطاعت کے ہیں اور اخلاص کا مطلب ہے صرف اللہ کی رضا کی نیت سے نیک عمل کرنا۔ آیت، نیت کے وجوب اور اس کے اخلاص پر دلیل ہے۔ حدیث میں بھی اخلاص نیت کی اہمیت یہ کہہ کر واضح کر دی گئی ہے کہ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے یعنی جو عمل خیر اللہ کی رضا کے لئے کیا جائے گا، (بشرطیکہ وہ سنت کے مطابق ہو) وہ مقبول اور جس عمل میں کسی اور جذبے کی آمیزش ہوگی، وہ نامقبول ہوگا۔