سورہ Az-Zukhruf — آیت 65
سونے کی چمک · 43:65 · 65/89
فَٱخْتَلَفَ ٱلْأَحْزَابُ مِنۢ بَيْنِهِمْ ۖ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ أَلِيمٍ
Fakhtalafa al-ahzabumin baynihim fawaylun lillatheena thalamoomin AAathabi yawmin aleem
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
پھر کتنے فرقے ان میں سے پھٹ گئے۔ سو جو لوگ ظالم ہیں ان کی درد دینے والے دن کے عذاب سے خرابی ہے
محمد جوناگڑھی
پھر (بنی اسرائیل کی) جماعتوں نے آپس میں اختلاف کیا، پس ﻇالموں کے لیے خرابی ہے دکھ والے دن کی آفت سے.
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
مگر(اُس کی اِس صاف تعلیم کے باوجود)گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا، پس تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک دن کے عذاب سے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
پھر ان میں سے کئی گروہ باہم اختلافات میں مبتلا ہوگئے پس تباہی اور بربادی ہے ان ظالموں کے لیے ایک دردناک دن کے عذاب سے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
پھر (بنی اسرائیل کی) جماعتوں نے آپس میں اختلاف کیا[1] ، پس ﻇالموں کے لیے خرابی ہے دکھ والے دن کی آفت سے.
حواشی
[1] اس سے مراد یہود ونصاریٰ ہیں، یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کی تنقیص کی اور انہیں نعوذباللہ ولد الزنا قرار دیا، جب کہ عیسائیوں نے غلو سے کام لے کر انہیں معبود بنالیا۔ یا مراد عیسائیوں ہی کے مختلف فرقے ہیں جو حضرت عیسیٰ (عليه السلام) کے بارے میں ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ ایک انہیں ابن اللہ، دوسرا اللہ اور ثالث ثلاثہ کہتا ہے اور ایک فرقہ مسلمانوں کی طرح انہیں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تسلیم کرتا ہے۔