سورہ Az-Zukhruf — آیت 53

سونے کی چمک · 43:53 · 53/89

فَلَوْلَآ أُلْقِىَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَآءَ مَعَهُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِينَ

Falawla olqiya AAalayhi aswiratun minthahabin aw jaa maAAahu almala-ikatumuqtarineen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

تو اس پر سونے کے کنگن کیوں نہ اُتارے گئے یا (یہ ہوتا کہ) فرشتے جمع ہو کر اس کے ساتھ آتے

محمد جوناگڑھی

اچھا اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے یا اس کے ساتھ پر باندھ کر فرشتے ہی آجاتے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اُتارے گئے؟ یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا؟“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تو کیوں نہیں اتارے گئے اس پر سونے کے کنگن ؟ یا اس کے ساتھ فرشتے چلے آ رہے ہوتے صفیں باندھے ہوئے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اچھا اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے[1] یا اس کے ساتھ پر باندھ کر فرشتے ہی آجاتے.[2]

حواشی

[1] اس دور میں مصر اور فارس کے بادشاہ اپنی امتیازی شان اور خصوصی حیثیت کو نمایاں کرنے کے لیے سونے کے کڑے پہنتے تھے، اسی طرح قبیلوں کے سرداروں کے ہاتھوں میں بھی سونے کے کڑے اور گلے میں سونے کے طوق اور زنجیریں ڈال دی جاتی تھیں جو ان کی سرداری کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ اسی اعتبار سے فرعون نے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کے بارے میں کہا کہ اگر اس کی کوئی حیثیت اور امتیازی شان ہوتی تو اس کے ہاتھ میں سونے کے کڑے ہونے چاہیے تھے۔ [2] جو اس بات کی تصدیق کرتے کہ یہ اللہ کا رسول ہے یا بادشاہوں کی طرح اس کی شان کو نمایاں کرنے کے لیے اس کے ساتھ ہوتے۔