سورہ Az-Zukhruf — آیت 48

سونے کی چمک · 43:48 · 48/89

وَمَا نُرِيهِم مِّنْ ءَايَةٍ إِلَّا هِىَ أَكْبَرُ مِنْ أُخْتِهَا ۖ وَأَخَذْنَـٰهُم بِٱلْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

Wama nureehim min ayatin illahiya akbaru min okhtiha waakhathnahum bilAAathabilaAAallahum yarjiAAoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور جو نشانی ہم ان کو دکھاتے تھے وہ دوسری سے بڑی ہوتی تھی اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑ لیا تاکہ باز آئیں

محمد جوناگڑھی

اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے تھے وه دوسری سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وه باز آجائیں.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

ہم ایک پر ایک ایسی نشانی اُن کو دکھاتے چلے گئے جو پہلی سے بڑھ چڑھ کر تھی، اور ہم نے اُن کو عذاب میں دھر لیا تاکہ وہ اپنی روش سے باز آئیں۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور نہیں دکھاتے تھے ہم انہیں کوئی نشانی مگر وہ اپنی بہن (اپنے جیسی پہلی نشانی) سے زیادہ بڑی ہوتی تھی اور ہم انہیں پکڑتے رہے اس عذاب کے ذریعے شاید کہ وہ باز آجائیں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے تھے وه دوسری سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی[1] اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وه باز آجائیں.[2]

حواشی

[1] ان نشانیوں سے وہ نشانیاں مراد ہیں جو طوفان ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون وغیرہ کی شکل میں یکے بعد دیگرے انہیں دکھائی گئیں، جن کا تذکرہ سورۂ اعراف، آیات 133۔ 135 میں گزر چکا ہے۔ بعد میں آنے والی ہر نشانی پہلی نشانی سے بڑی چڑھی ہوتی، جس سے حضرت موسیٰ (عليه السلام) کی صداقت واضح سے واضح تر ہوجاتی۔ [2] مقصد ان نشانیوں یا عذاب سے یہ ہوتا تھا کہ شاید وہ تکذیب سے باز آجائیں۔