سورہ Az-Zukhruf — آیت 40

سونے کی چمک · 43:40 · 40/89

أَفَأَنتَ تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ أَوْ تَهْدِى ٱلْعُمْىَ وَمَن كَانَ فِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ

Afaanta tusmiAAu assumma awtahdee alAAumya waman kana fee dalalinmubeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

کیا تم بہرے کو سنا سکتے ہو یا اندھے کو رستہ دکھا سکتے ہو اور جو صریح گمراہی میں ہو (اسے راہ پر لاسکتے ہو)

محمد جوناگڑھی

کیا پس تو بہرے کو سنا سکتا ہے یا اندھے کو راه دکھا سکتا ہے اور اسے جو کھلی گمراہی میں ہو.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اب کیا اے نبی ؐ ، تم بہروں کو سناوٴ گے؟ یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ دکھاوٴ گے؟

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تو (اے نبی ﷺ !) کیا آپ بہروں کو سنائیں گے یا آپ اندھوں کو راہ دکھائیں گے اور ان کو جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

کیا پس تو بہرے کو سنا سکتا ہے یا اندھے کو راه دکھا سکتا ہے اور اسے جو کھلی گمراہی میں ہو.[1]

حواشی

[1] یعنی جس کے لیے شقاوت ابدی لکھ دی گئی ہے، وہ وعظ ونصیحت کے اعتبار سے بہرہ اور اندھا ہے، تیری دعوت وتبلیغ سے وہ راہ راست پر نہیں آسکتا۔ یہ استفہام انکاری ہے۔ جس طرح بہرہ سننے سے، نابینا دیکھنے سے محروم ہے، اسی طرح کھلی گمراہی میں مبتلا حق کی طرف آنے سے محروم ہے۔ یہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کو تسلی ہے تاکہ ایسے لوگوں کے کفر سے آپ زیادہ تشویش محسوس نہ کریں۔