سورہ Az-Zukhruf — آیت 35

سونے کی چمک · 43:35 · 35/89

وَزُخْرُفًا ۚ وَإِن كُلُّ ذَٰلِكَ لَمَّا مَتَـٰعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۚ وَٱلْـَٔاخِرَةُ عِندَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ

Wazukhrufan wa-in kullu thalika lammamataAAu alhayati addunya wal-akhiratuAAinda rabbika lilmuttaqeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اور (خوب) تجمل وآرائش (کردیتے) اور یہ سب دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا سامان ہے۔ اور آخرت تمہارے پروردگار کے ہاں پرہیزگاروں کے لئے ہے

محمد جوناگڑھی

اور سونے کے بھی، اور یہ سب کچھ یونہی سا دنیا کی زندگی کا فائده ہے اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک (صرف) پرہیزگاروں کے لیے (ہی) ہے.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

سب چاندی اور سونے کے بنوا دیتے۔ یہ تو محض حیاتِ دنیا کی متاع ہے، اور آخرت تیرے ربّ کے ہاں صرف متّقین کے لیے ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور سونے کی بھی (بنا دیتے) اور یہ سب کچھ تو بس دنیا کی زندگی کا سازو سامان ہے اور آخرت (کی کامیابی) آپ کے رب کے نزدیک صرف اہل ِتقویٰ کے لیے ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور سونے کے بھی[1] ، اور یہ سب کچھ یونہی سا دنیا کی زندگی کا فائده ہے اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک (صرف) پرہیزگاروں کے لیے (ہی) ہے.[2]

حواشی

[1] یعنی بعض چیزیں چاندی کی اور بعض سونے کی، کیونکہ تنوع میں حسن زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کا مال ہماری نظر میں اتنا بے وقعت ہے کہ اگر مذکورہ خطرہ نہ ہوتا تو اللہ کے سب منکروں کو خوب دولت دی جاتی لیکن اس میں خطرہ یہی تھا کہ پھر سب لوگ ہی دنیا کے پرستار نہ بن جائیں۔ دنیا کی حقارت اس حدیث سے بھی واضح ہے جس میں فرمایا گیا ہے۔ ”لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَزِنُ عِنْدَ اللهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا سَقَى مِنْهَا كَافِرًا شُرْبَةَ مَاءٍ“ (ترمذي ، ابن ماجه ، كتاب الزهد ) ”اگر دنیا کی اللہ کے ہاں اتنی حیثیت بھی ہوتی جتنی ایک مچھر کے پر کی ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو اس دنیا سے ایک گھونٹ پانی بھی پینے کو نہ دیتا“۔ [2] جو شرک و معاصی سے اجتناب اور اللہ کی اطاعت کرتے رہے، ان کے لیے آخرت اور جنت کی نعمتیں ہیں جن کو زوال وفنا نہیں۔