سورہ Az-Zukhruf — آیت 13

سونے کی چمک · 43:13 · 13/89

لِتَسْتَوُۥا۟ عَلَىٰ ظُهُورِهِۦ ثُمَّ تَذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا ٱسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا۟ سُبْحَـٰنَ ٱلَّذِى سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُۥ مُقْرِنِينَ

Litastawoo AAala thuhoorihithumma tathkuroo niAAmata rabbikum itha istawaytumAAalayhi wataqooloo subhana allathee sakhkhara lanahatha wama kunna lahu muqrineen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

تاکہ تم ان کی پیٹھ پر چڑھ بیٹھو اور جب اس پر بیٹھ جاؤ پھر اپنے پروردگار کے احسان کو یاد کرو اور کہو کہ وہ (ذات) پاک ہے جس نے اس کو ہمارے زیر فرمان کر دیا اور ہم میں طاقت نہ تھی کہ اس کو بس میں کرلیتے

محمد جوناگڑھی

تاکہ تم ان کی پیٹھ پر جم کر سوار ہوا کرو پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو جب اس پر ٹھیک ٹھاک بیٹھ جاؤ، اور کہو پاک ذات ہے اس کی جس نے اسے ہمارے بس میں کردیا حاﻻنکہ ہمیں اسے قابو کرنے کی طاقت نہ تھی.

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور جب اُن پر بیٹھو تو اپنے ربّ کا احسان یاد کرو اور کہو   کہ ”پاک  ہے وہ جس نے ہمارے لیے اِن چیزوں کر مسخّر کر دیا  ورنہ ہم انہیں قابُو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے ،

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تا کہ تم جم کر بیٹھو ان کی پیٹھوں پر پھر اپنے رب کے انعام کا ذکر کرو جب کہ تم ان کے اوپر جم کر بیٹھ جائو اور تم کہو کہ پاک ہے وہ ذات جس نے ان (سواریوں) کو ہمارے بس میں کردیا ہے اور ہم تو انہیں قابو میں لانے والے نہیں تھے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

تاکہ تم ان کی پیٹھ پر جم کر سوار ہوا کرو[1] پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو جب اس پر ٹھیک ٹھاک بیٹھ جاؤ، اور کہو پاک ذات ہے اس کی جس نے اسے ہمارے بس میں کردیا حاﻻنکہ ہمیں اسے قابو کرنے کی[2] طاقت نہ تھی.

حواشی

[1] لِتَسْتَوُوا بِمَعْنَى لِتَسْتَقِرُّوا یا لِتَسْتَعْلُوا جم کر بیٹھ جاو یا چڑھ جاؤ۔ ظُهُورِهِ میں ضمیر واحد باعتبار جنس کے ہے۔ [2] یعنی اگر ان جانوروں کو ہمارے تابع اور ہمارے بس میں نہ کرتا تو ہم انہیں اپنے قابو میں رکھ کر ان کو سواری، بار برداری اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرسکتے تھے، مُقْرِنِينَ بمعنی مُطِيقِينَ ہے۔