سورہ At-Tawbah — آیت 92

توبہ · 9:92 · 92/129

وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ إِذَا مَآ أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ أَجِدُ مَآ أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا۟ وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا۟ مَا يُنفِقُونَ

Wala AAala allatheena ithama atawka litahmilahum qulta la ajidu maahmilukum AAalayhi tawallaw waaAAyunuhum tafeedumina addamAAi hazanan alla yajidoo mayunfiqoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ ان کے پاس خرچ موجود نہ تھا، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے

محمد جوناگڑھی

ہاں ان پر بھی کوئی حرج نہیں جو آپ کے پاس آتے ہیں کہ آپ انہیں سواری مہیا کر دیں تو آپ جواب دیتے ہیں کہ میں تو تمہاری سواری کے لئے کچھ بھی نہیں پاتا، تو وه رنج وغم سے اپنی آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے لوٹ جاتے ہیں کہ انہیں خرچ کرنے کے لئے کچھ بھی میسر نہیں۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اسی طرح اُن لوگوں پر بھی کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے جنہوں نے خود آکر تم سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لیے سواریاں بہم پہنچائی جائیں ، اور جب تم نے کہا کہ میں تمہارے لیے سواریوں کا انتظام نہیں کر سکتا تو وہ مجبوراً واپس آگئے اور حال یہ تھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسُو جاری تھے اور انہیں اس بات کا بڑا رنج تھا کہ وہ اپنے خرچ پر شریکِ جہاد ہونے کی مقدرت نہیں رکھتے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اور نہ ہی ان پر (کوئی الزام ہے) جو آئے آپ ﷺ کے پاس کہ آپ ﷺ ان کے لیے سواری کا انتظام کردیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس بھی کوئی چیز نہیں جس پر میں تم لوگوں کو سوار کرسکوں (تو مجبوراً) وہ لوٹ گئے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس رنج سے کہ ان کے پاس کچھ نہیں جسے وہ خرچ کرسکیں