سورہ At-Tawbah — آیت 73
توبہ · 9:73 · 73/129
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ جَـٰهِدِ ٱلْكُفَّارَ وَٱلْمُنَـٰفِقِينَ وَٱغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۚ وَمَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ
Ya ayyuha annabiyyu jahidialkuffara walmunafiqeena waghluthAAalayhim wama'wahum jahannamu wabi'sa almaseer
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے لڑو۔ اور ان پر سختی کرو۔ اور ان کا ٹھکانہ دورخ ہے اور وہ بری جگہ ہے
محمد جوناگڑھی
اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد جاری رکھو، اور ان پر سخت ہو جاؤ ان کی اصلی جگہ دوزخ ہے، جو نہایت بدترین جگہ ہے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اے نبیؐ ، کفّار اور منافقین دونوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آوٴ، آخرِ کار ان کا ٹھکانا جہنّم ہے اور وہ بد ترین جائے قرار ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اے نبی ﷺ ! جہاد کیجئے کفار اور منافقین سے اور ان پر سختی کیجیے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد جاری رکھو[1] ، اور ان پر سخت ہو جاؤ[2] ان کی اصلی جگہ دوزخ ہے، جو نہایت بدترین جگہ ہے۔[3]
حواشی
[1] اس آیت میں نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کو کفار اور منافقین سے جہاد اور ان پر سختی کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے نبی (صلى الله عليه وسلم) کے بعد اس کے مخاطب آپ (صلى الله عليه وسلم) کی امت ہے، کافروں کے ساتھ منافقین سے بھی جہاد کرنے کا حکم ہے، اس کی بابت اختلاف ہے۔ ایک رائے تو یہی ہے کہ اگر منافقین کا نفاق اور ان کی سازشیں بےنقاب ہوجائیں تو ان سے بھی اس طرح جہاد کیا جائے، جس طرح کافروں سے کیا جاتا ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ منافقین سے جہاد یہ ہے کہ انہیں زبان سے وعظ ونصیحت کی جائے۔ یا وہ اخلاقی جرائم کارتکاب کریں تو ان پر حدود نافذ کی جائیں تیسری رائے یہ ہے کہ جہاد کا حکم کفار سے متعلق ہے اور سختی کرنے کا منافقین سے امام ابن کثیر فرماتے ہیں ان آراء میں آپس میں کوئی تضاد اور منافات نہیں اس لیے کہ حالات و ظروف کے مطابق ان میں سے کسی بھی رائے پر عمل کرناجائز ہے۔ [2] ”غِلظَة“ رَأفة کی ضد ہے، جس کے معنی نرمی اور شفقت کرنے کے ہیں۔ اس اعتبار سے غلظۃ کے معنی سختی اور قوت سے دشمنوں کے خلاف اقدام ہے۔ محض زبان کی سختی مراد نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ تو نبی کریم (صلى الله عليه وسلم) کے اخلاق کریمانہ کے ہی خلاف ہے، اسے آپ (صلى الله عليه وسلم) اختیار کر سکتے تھے نہ اللہ تعالٰی کی طرف سے اس کا حکم آپ کو مل سکتا تھا۔ [3] جہاد اور سختی کے حکم کا تعلق دنیا سے ہے۔ آخرت میں ان کے لئے جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔