سورہ At-Tawbah — آیت 70
توبہ · 9:70 · 70/129
أَلَمْ يَأْتِهِمْ نَبَأُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَقَوْمِ إِبْرَٰهِيمَ وَأَصْحَـٰبِ مَدْيَنَ وَٱلْمُؤْتَفِكَـٰتِ ۚ أَتَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَـٰتِ ۖ فَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَـٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
Alam ya'tihim nabao allatheena minqablihim qawmi noohin waAAadin wathamooda waqawmiibraheema waas-habi madyana walmu'tafikatiatat-hum rusuluhum bilbayyinati fama kanaAllahu liyathlimahum walakin kanooanfusahum yathlimoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
کیا ان کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے (یعنی) نوح اور عاد اور ثمود کی قوم۔ اور ابراہیم کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے لے کر آئے۔ اور خدا تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
محمد جوناگڑھی
کیا انہیں اپنے سے پہلے لوگوں کی خبریں نہیں پہنچیں، قوم نوح اور عاد اور ﺛمود اور قوم ابراہیم اور اہل مدین اور اہل مؤتفکات (الٹی ہوئی بستیوں کے رہنے والے) کی، ان کے پاس ان کے پیغمبر دلیلیں لے کر پہنچے، اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ﻇلم کرے بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ﻇلم کیا۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
کیا اِن لوگوں کو اپنے پیش رووٴں کی تاریخ نہیں پہنچی؟ نوح ؑ کی قوم، عاد ، ثمود، ابراہیم ؑ کی قوم، مدیَن کے لوگ اور وہ بستیاں جنہیں اُلٹ دیا گیا ۔ اُن کے رسُول ان کے پاس کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر آئے، پھر یہ اللہ کا کام نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتامگر وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
کیا ان کے پاس ان لوگوں کی خبریں نہیں آچکی ہیں جو ان سے پہلے تھے ؟ قوم نوح ؑ عاد ثمود اور قوم ابراہیم ؑ اور مدین کے لوگوں اور ان بستیوں کی (خبریں) جو الٹ دی گئیں ان کے پاس آئے ان کے رسول واضح نشانیاں (یا احکام) لے کر۔ پس اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا بلکہ وہ اپنے اوپر خود ہی ظلم ڈھاتے رہے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
کیا انہیں اپنے سے پہلے لوگوں کی خبریں نہیں پہنچیں، قوم نوح اور عاد اور ﺛمود اور قوم ابراہیم اور اہل مدین اور اہل مؤتفکات (الٹی ہوئی بستیوں کے رہنے والے) کی[1] ، ان کے پاس ان کے پیغمبر دلیلیں لے کر پہنچے[2]، اللہ ایسا نہ تھا کہ ان پر ﻇلم کرے بلکہ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر ﻇلم کیا۔[3]
حواشی
[1] یہاں ان چھ قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ جن کا مسکن ملک شام رہا ہے۔ یہ بلاد عرب کے قریب ہے اور ان کی کچھ باتیں انہوں نے شاید آبا واجداد سے سنی بھی ہوں قوم، نوح، جو طوفان میں غرق کر دی گئی۔ قوم عاد جو قوت اور طاقت میں ممتاز ہونے کے باوجود، باد تند سے ہلاک کر دی گئی۔ قوم ثمود جسے آسمانی چیخ سے ہلاک کیا گیا قوم ابراہیم، جس کے بادشاہ نمرود بن کنعان بن کوش کو مچھر سے مروا دیا گیا۔ اصحاب مدین (حضرت شعیب عليه السلام کی قوم) جنہیں چیخ زلزلہ اور بادلوں کے سائے کے عذاب سے ہلاک کر دیا گیا اور اہل مؤتفکات۔ اس سے مراد قوم لوط ہے جن کی بستی کا نام 'سدوم' تھا ائتفاک کے معنی ہیں انقلاب الٹ پلٹ دینا۔ ان پر آسمان سے پتھر برسائے گئے۔ دوسرے ان کی بستی کو اوپر اٹھا کر نیچے پھینکا گیا جس سے پوری بستی اوپر نیچے ہوگئی اس اعتبار سے انہیں اصحاب مؤتفکات کہا جاتا ہے۔ [2] ان سب قوموں کے پاس، ان کے پیغمبر، جو ان ہی کی قوم ایک فرد ہوتا تھا آئے۔ لیکن انہوں نے ان کی باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دی، بلکہ تکذیب اور عناد کا راستہ اختیار کیا، جس کا نتیجہ بالآخر عذاب الٰہی کی شکل میں نکلا۔ [3] یعنی یہ عذاب ان کے ظلم پر استمرار اور دوام کا نتیجہ ہے یوں ہی بلاوجہ عذاب الہٰی کا شکار نہیں ہوئے۔