سورہ At-Tawbah — آیت 67

توبہ · 9:67 · 67/129

ٱلْمُنَـٰفِقُونَ وَٱلْمُنَـٰفِقَـٰتُ بَعْضُهُم مِّنۢ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِٱلْمُنكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ ۚ نَسُوا۟ ٱللَّهَ فَنَسِيَهُمْ ۗ إِنَّ ٱلْمُنَـٰفِقِينَ هُمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ

Almunafiqoona walmunafiqatubaAAduhum min baAAdin ya'muroona bilmunkariwayanhawna AAani almaAAroofi wayaqbidoona aydiyahum nasooAllaha fanasiyahum inna almunafiqeena humu alfasiqoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ہم جنس (یعنی ایک طرح کے) ہیں کہ برے کام کرنے کو کہتے اور نیک کاموں سے منع کرتے اور (خرچ کرنے سے) ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ انہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے ان کو بھلا دیا۔ بےشک منافق نافرمان ہیں

محمد جوناگڑھی

تمام منافق مرد وعورت آپس میں ایک ہی ہیں، یہ بری باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بھلی باتوں سے روکتے ہیں اور اپنی مٹھی بند رکھتے ہیں، یہ اللہ کو بھول گئے اللہ نے انہیں بھلا دیا۔ بیشک منافق ہی فاسق وبدکردار ہیں۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں۔ بُرائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ خیر سے روکے رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کو بھُول گئےتو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا۔ یقیناً یہ منافق ہی فاسق ہیں

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے میں سے ہیں یہ بدی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے (بھی) انہیں نظر انداز کردیا۔ یقیناً یہ منافق ہی نافرمان ہیں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

تمام منافق مرد وعورت آپس میں ایک ہی ہیں[1] ، یہ بری باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بھلی باتوں سے روکتے ہیں اور اپنی مٹھی بند رکھتے ہیں[2]، یہ اللہ کو بھول گئے اللہ نے انہیں بھلا دیا[3]۔ بیشک منافق ہی فاسق وبدکردار ہیں۔

حواشی

[1] منافقین، جو حلف اٹھا کر مسلمان باور کراتے تھے کہ ”ہم تم ہی میں سے ہیں“، اللہ تعالٰی نے اس کی تردید فرمائی، کہ ایمان والوں سے ان کا کیا تعلق؟ البتہ یہ سب منافق، چاہے مرد ہوں یا عورتیں، ایک ہی ہیں، یعنی کفر ونفاق میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔ آگے ان کی صفات بیان کی جا رہی ہیں جو مومنین کی صفات کے بالکل الٹ اور برعکس ہیں۔ [2] اس سے مراد بخل ہے۔ یعنی مومن کی صفت اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور منافق کی اس کے برعکس بخل، یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے گریز کرنا ہے۔ [3] یعنی اللہ تعالٰی بھی ان سے ایسا معاملہ کرے گا کہ گویا اس نے انہیں بھلا دیا۔ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا: «الْيَوْمَ نَنْسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا» ( سورة الجاثية: 34) ”آج ہم تمہیں اس طرح بھلا دیں گے جس طرح تم ہماری ملاقات کے اس دن کو بھولے ہوئے تھے“، مطلب یہ کہ جس طرح انہوں نے دنیا میں اللہ کے احکامات کو چھوڑے رکھا۔ قیامت کے دن اللہ تعالٰی انہیں اپنے فضل و کرم سے محروم رکھے گا گویا نسیان کی نسبت اللہ تعالٰی کی طرف علم بلاغت کے اصول مشاکلت کے اعتبار سے ہے ورنہ اللہ کی ذات نسیان سے پاک ہے۔ (فتح القدیر)