سورہ At-Tawbah — آیت 123

توبہ · 9:123 · 123/129

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَـٰتِلُوا۟ ٱلَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ ٱلْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا۟ فِيكُمْ غِلْظَةً ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ

Ya ayyuha allatheena amanooqatiloo allatheena yaloonakum mina alkuffariwalyajidoo feekum ghilthatan waAAlamoo annaAllaha maAAa almuttaqeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

اے اہلِ ایمان! اپنے نزدیک کے (رہنے والے) کافروں سے جنگ کرو اور چاہیئے کہ وہ تم میں سختی (یعنی محنت وقوت جنگ) معلوم کریں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے

محمد جوناگڑھی

اے ایمان والو! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہئے۔ اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کے ساتھ ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جنگ کرو اُن منکرینِ حق سے جو تم سے قریب ہیں۔ اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں، اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اے اہل ایمان ! جنگ کرو ان کافروں سے جو تم سے قریب ہیں اور وہ تمہارے اندر سختی پائیں اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اے ایمان والو! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں[1] اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہئے[2]۔ اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کے ساتھ ہے۔

حواشی

[1] اس میں کافروں سے لڑنے کا ایک اہم اصول بیان کیا گیا ہے۔ کہ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ اور الأَقْرَبُ فَالأَقْرَبُ کے مطابق کافروں سے جہاد کرنا ہے جیسا کہ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے پہلے جزیرہ، عرب میں آباد مشرکین سے قتال کیا، جب ان سے فارغ ہوگئے اور اللہ تعالٰی نے مکہ، طائف، یمن، یمامہ، ہجر، خیبر، حضر موت وغیرہ ممالک پر مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما دیا اور عرب کے سارے قبائل فوج در فوج اسلام میں داخل ہوگئے، تو پھر اہل کتاب سے قتال کا آغاز فرمایا اور 9 ہجری میں رومیوں سے قتال کے لئے تبوک تشریف لے گئے جو جزیرہ، عرب سے قریب ہے اسی کے مطابق آپ (صلى الله عليه وسلم) کی وفات کے بعد خلفائے راشدین نے روم کے عیسائیوں سے قتال فرمایا، اور ایران کے مجوسیوں سے جنگ کی۔ [2] یعنی کافروں کے لئے، مسلمانوں کے دلوں میں نرمی نہیں سختی ہونی چاہیے جیسا کہ «اَشِدَّاۗءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاۗءُ بَيْنَهُمْ» (الفتح: 29) صحابہ کی صفت بیان کی گئی ہے۔ اسی طرح «اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ» ( المائدہ: 54) اہل ایمان کی صفت ہے۔