سورہ At-Tawbah — آیت 120
توبہ · 9:120 · 120/129
مَا كَانَ لِأَهْلِ ٱلْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ ٱلْأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُوا۟ عَن رَّسُولِ ٱللَّهِ وَلَا يَرْغَبُوا۟ بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِۦ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلَا نَصَبٌ وَلَا مَخْمَصَةٌ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَطَـُٔونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ ٱلْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِۦ عَمَلٌ صَـٰلِحٌ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ
Ma kana li-ahli almadeenatiwaman hawlahum mina al-aAArabi an yatakhallafooAAan rasooli Allahi wala yarghaboo bi-anfusihimAAan nafsihi thalika bi-annahum la yuseebuhumthamaon wala nasabun walamakhmasatun fee sabeeli Allahi wala yataoonamawti-an yagheethu alkuffara walayanaloona min AAaduwwin naylan illa kutiba lahumbihi AAamalun salihun inna Allaha layudeeAAu ajra almuhsineen
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں ان کو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں خدا کی راہ میں تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی، محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لیے عمل نیک لکھا جاتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
محمد جوناگڑھی
مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گردوپیش ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ کو چھوڑ کر پیچھے ره جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جان کو ان کی جان سے عزیز سمجھیں، یہ اس سبب سے کہ ان کو اللہ کی راه میں جو پیاس لگی اور جو تکان پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو کسی ایسی جگہ چلے جو کفار کے لیے موجب غیظ ہوا ہو اور دشمنوں کی جو کچھ خبر لی، ان سب پر ان کے نام (ایک ایک) نیک کام لکھا گیا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ مخلصین کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
مدینے کے باشندوں اور گرد و نواح کے بدویوں کو یہ ہرگز زبیا نہ تھا کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بے پروا ہو کر اپنے اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے اس لیے کہ ایسا کبھی نہ ہوگا کہ اللہ کی راہ میں بھوک پیاس اور جسمانی مشقت کی کوئی تکلیف وہ جھیلیں، اور منکرین حق کو جو راہ ناگوار ہے اُس پر کوئی قدم وہ اٹھائیں، اور کسی دشمن سے (عداوت حق کا) کا کوئی انتقام وہ لیں اور اس کے بدلے ان کے حق میں ایک عمل صالح نہ لکھا جائے یقیناً اللہ کے ہاں محسنوں کا حق الخدمت مارا نہیں جاتا ہے
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اہل مدینہ اور ان کے اردگرد کے بدو لوگوں کے لیے روا نہیں تھا کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہتے اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو آپ ﷺ کی جان سے بڑھ کر عزیز رکھتے یہ اس لیے کہ انہیں پیاس مشقت اور فاقے کی (صورت میں) جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ کی راہ میں اور جہاں کہیں بھی وہ قدم رکھتے ہیں کفار (کے دلوں) کو جلاتے ہوئے اور دشمن کے مقابلے میں کوئی بھی کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ان کے لیے اس (سب کچھ) کے عوض نیکیوں کا اندارج ہوتا رہتا ہے یقیناً اللہ نیک لوگوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا