سورہ At-Tawbah — آیت 117

توبہ · 9:117 · 117/129

لَّقَد تَّابَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلنَّبِىِّ وَٱلْمُهَـٰجِرِينَ وَٱلْأَنصَارِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ فِى سَاعَةِ ٱلْعُسْرَةِ مِنۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّهُۥ بِهِمْ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ

Laqad taba Allahu AAalaannabiyyi walmuhajireena wal-ansariallatheena ittabaAAoohu fee saAAati alAAusrati minbaAAdi ma kada yazeeghu quloobu fareeqin minhumthumma taba AAalayhim innahu bihim raoofun raheem

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

بےشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھر جانے کو تھے۔ مشکل کی گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی۔ بےشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے

محمد جوناگڑھی

اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے حال پر توجہ فرمائی اور مہاجرین اور انصار کے حال پر بھی جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت پیغمبر کا ساتھ دیا، اس کے بعد کہ ان میں سے ایک گروه کے دلوں میں کچھ تزلزل ہو چلا تھا۔ پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان سب پر بہت ہی شفیق مہربان ہے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اللہ نے معاف کر دیا نبی کو اور اُن مہاجرین و انصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبی ؐ کا ساتھ دیا۔ اگرچہ اُن میں سے کچھ لوگوں کے دل کَجی کی طرف مائل ہو چلے تھے، (مگر جب اُنہوں نے اُس کجی کا اتباع نہ کیا بلکہ نبی ؐ کا ساتھ ہی دیا تو ) اللہ نے اُنہیں معاف کر دیا ، بےشک اُس کا معاملہ ان لوگوں کے ساتھ شفقت و مہربانی کا ہے

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

اللہ مہربان ہوا نبی ﷺ پر اور مہاجرین و انصار پر بھی جنہوں نے آپ کا اتباع کیا (ساتھ دیا) مشکل وقت میں اس کے بعد کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل میں کچھ کجی آنے لگی تھی پھرا للہ نے ان پر نظر رحمت فرمائی۔ یقیناً وہ ان کے حق میں بہت مہربان رحم فرمانے والا ہے

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے حال پر توجہ فرمائی اور مہاجرین اور انصار کے حال پر بھی جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت پیغمبر کا ساتھ دیا[1] ، اس کے بعد کہ ان میں سے ایک گروه کے دلوں میں کچھ تزلزل ہو چلا تھا[2]۔ پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان سب پر بہت ہی شفیق مہربان ہے۔

حواشی

[1] جنگ تبوک کے سفر کو 'تنگی کا وقت' قرار دیا۔ اس لئے کہ ایک تو موسم سخت گرمی کا تھا دوسرے، فصلیں تیار تھیں، تیسرے، سفر خاصا لمبا تھا اور چوتھے وسائل کی بھی کمی تھی۔ اس لئے اسے ”جَيش الْعسرَة“ (تنگی کا قافلہ یا لشکر) کہا جاتا ہے۔ توبہ کے لئے ضروری نہیں ہے کہ پہلے گناہ یا غلطی کا ارتکاب ہو۔ اس کے بغیر بھی رفع درجات اور غیر شعوری طور پر ہونے والی کوتاہیوں کے لئے توبہ ہوتی ہے۔ یہاں مہاجرین و انصار کے اس سے پہلے گروہ کی توبہ اس مفہوم میں ہے جنہوں نے بلا تأمل نبی (صلى الله عليه وسلم)کے حکم جہاد پر لبیک کہا۔ [2] یہ اس دوسرے گروہ کا ذکر ہے جسے مزکورہ وجوہ سے ابتداءً تردد ہوا۔ لیکن پھر جلد ہی وہ اس کیفیت سے نکل آیا اور بخوشی جہاد میں شریک ہوا۔ دلوں میں تزلزل سے مراد دین کے بارے میں کوئی تزلزل یا شبہ نہیں ہے بلکہ مزکورہ دنیاوی اسباب کی وجہ سے شریک جہاد ہونے میں جو تذبذب اور تردد تھا وہ مراد ہے۔