سورہ At-Tawbah — آیت 114
توبہ · 9:114 · 114/129
وَمَا كَانَ ٱسْتِغْفَارُ إِبْرَٰهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَآ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُۥٓ أَنَّهُۥ عَدُوٌّ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ لَأَوَّٰهٌ حَلِيمٌ
Wama kana istighfaruibraheema li-abeehi illa AAan mawAAidatin waAAadahaiyyahu falamma tabayyana lahu annahu AAaduwwun lillahitabarraa minhu inna ibraheema laawwahun haleem
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کا سبب تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے
محمد جوناگڑھی
اور ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت مانگنا وه صرف وعده کے سبب سے تھا جو انہوں نے اس سے وعده کرلیا تھا۔ پھر جب ان پر یہ بات ﻇاہر ہوگئی کہ وه اللہ کا دشمن ہے تو وه اس سے محض بے تعلق ہوگئے، واقعی ابراہیم (علیہ السلام) بڑے نرم دل اور برد بار تھے۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کے لیے جو دعائے مغفرت کی تھی وہ تو اُس کے وعدے کی وجہ سے تھی جو اُس نے اپنے باپ سے کیا تھا ، مگر جب اُس پر یہ بات کھُل گئی کہ اُس کا باپ خداکا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہو گیا ، حق یہ ہے کہ ابراہیم ؑ بڑا رقیق القلب و خدا ترس اور بُردبار آدمی تھا۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور نہیں تھا استغفار کرنا ابراہیم ؑ کا اپنے والد کے حق میں مگر ایک وعدے کی بنیاد پر جو انہوں نے اس سے کیا تھا اور جب آپ ؑ پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ ؑ نے اس سے اعلان بیزاری کردیا۔ یقیناً ابراہیم ؑ بہت درد دل رکھنے والے اور حلیم الطبع تھے