سورہ At-Tawbah — آیت 109
توبہ · 9:109 · 109/129
أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَـٰنَهُۥ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَـٰنَهُۥ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَٱنْهَارَ بِهِۦ فِى نَارِ جَهَنَّمَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
Afaman assasa bunyanahu AAalataqwa mina Allahi waridwanin khayrunam man assasa bunyanahu AAala shafa jurufinharin fanhara bihi fee narijahannama wallahu la yahdee alqawma aththalimeen
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری اور خدا ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا
محمد جوناگڑھی
پھر آیا ایسا شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ سے ڈرنے پر اور اللہ کی خوشنودی پر رکھی ہو، یا وه شخص، کہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی گھاٹی کے کنارے پر جو کہ گرنے ہی کو ہو، رکھی ہو، پھر وه اس کو لے کر آتش دوزخ میں گر پڑے، اور اللہ تعالیٰ ایسے ﻇالموں کو سمجھ ہی نہیں دیتا۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات کگر پر اُٹھائی اور وہ اُسے لے کر سیدھی جہنم کی آگ میں جا گری؟ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
تو کیا بھلا جس نے اپنی عمارت کی بنیاد رکھی ہو اللہ کے تقویٰ اور اس کی رضا پر وہ بہتر ہے یا وہ کہ جس نے اپنی تعمیر کی بنیاد رکھی ایک ایسی کھائی کے کنارے پر جو گرا چاہتی ہے تو وہ اس کو لے کر گرگئی جہنم میں ؟ اور اللہ ایسے ظالم لوگوں کو راہ یاب نہیں کرتا